جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صوبائی بجٹ میں کوئٹہ کے عوام کے لیے کوئی قابلِ ذکر منصوبہ یا حقیقی ریلیف نہیں رکھا گیا۔
بجٹ میں مساجد کو سولر سسٹم فراہم کرنے کے اعلانات تو کیے گئے ہیں، لیکن بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی بہتری اور تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے کوئی مثر منصوبہ نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی صرف پرانے وعدوں اور دعوں کو دہرایا گیا ہے، جبکہ آج بھی سرکاری ہسپتالوں میں مریض اپنی جیب سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔
اسی طرح گیس اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، ظالمانہ بلوں کا اجرا اور واپڈا کی جانب سے ٹرانسفارمروں کی مرمت اور تنصیب کے اخراجات عوام سے وصول کرنا معمول بن چکا ہے۔ تعلیمی اداروں کی حالت بھی تشویشناک ہے جہاں بنیادی سہولیات، حتی کہ صاف ستھرے واش رومز تک میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہیں جبکہ حکومت ترقی اور خوشحالی کے دعوے کر رہی ہے۔
رہنماں نے کہا کہ صوبے کے بیشتر علاقوں میں پانی کی قلت، صحت کی ناکافی سہولیات، گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی خستہ حالی عوام کے لیے مستقل اذیت بنی ہوئی ہے، مگر بجٹ میں ان ترجیحات کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے عوام حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے محدود آئینی اور مالی اختیارات کے باوجود صوبائی حکومت پر لازم تھا کہ دستیاب وسائل کو عوامی فلاح، روزگار کی فراہمی اور بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرتی، مگر افسوس کہ بجٹ میں عام آدمی کے مسائل کے حل کے بجائے روایتی اعلانات اور نمائشی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے فوری، عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کرے تاکہ عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔








