خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا: سپریم کورٹ

16

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیےکہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

عدالت نے میلسی میں تعینات ایڈیشنل سیشن جج کیس میں فیصلہ جاری کر دیا، 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا، جسٹس نعیم اختر اور جسٹس شفیع صدیقی 3 رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

عدالت نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کی برطرفی کی سزا بحال کردی، سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیےگئےکہ ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی برطرفی کی سزا بحال کی جاتی ہے۔

عدالتی افسر کی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کردی گئی، حکمنامے میں کہاگیاکہ رشوت ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت رکھنے والا جج منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، خراب شہرت ثابت ہونے پر لازمی ریٹائرمنٹ نہیں برطرفی ہی مناسب سزا ہے، ٹربیونل نے برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر کے قانون کی غلط تشریح کی۔

حکمنامے میں کہاگیاکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ہو جائے تو جج کو منصب پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا، جج کی دیانت تقسیم نہیں ہو سکتی، وہ یا تو مکمل ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو ہٹانا ایسے ہی ہے جیسے جسم سے ناسور نکال دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں