نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کا قومی اسمبلی میں ترمیمی بل: تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سزائے موت کی سفارش

3

نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے کریمنل ترمیمی بل میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 B- میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سزائے موت شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ عمر قید، کم از کم چودہ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی موجودہ سزائیں بھی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ بل میں تیزاب گردی کو ناقابل معافی اور انتہائی سفاک جرم قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ سزائیں ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ بل کے متن کے مطابق تیزاب گردی کے متاثرین عمر بھر جسمانی معذوری، ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

ترمیمی بل میں کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے حالیہ حملے کا حوالہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

بل میں سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں تیزاب گردی کو بعض پہلوؤں سے قتل سے بھی سنگین جرم قرار دیا گیا تھا کیونکہ متاثرہ شخص پوری زندگی اس جرم کے اثرات برداشت کرتا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق خواتین اور کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور مجرموں میں خوف پیدا کرنے کے لیے سخت سزائیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کا کہنا ہے کہ سخت سزا ہی تیزاب گردی جیسے جرائم کی مؤثر روک تھام کو ممکن بنا سکتی ہے اور پاکستان میں ایسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں