سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے بلوچستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں،قومی وطن میں آباد دونوں بڑی قوموں اور برداریوں کے درمیان قومی یکجہتی، آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے جلد بہت بڑا جتماع منعقد کرنے جارہے ہیں، اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام کوشش ضرور کریں گے، بلوچستان کے عوام کو بحران سے نکالیں گے، قومیں جذبہ و شعور سے ہی ترقی کرتی ہیں، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سرکاری ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچستان کا ہر فرد اس سرزمین کا اسٹیک ہولڈر ہے، بلوچستان کے لوگوں اور ریاست کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء ہے، سیاست میں مداخلت، معاہدے کے تحت یا نجی ہوٹل میں تشکیل دی گئی حکومتوں کے نتیجے میں سرزمین کے لوگوں نے پارلیمانی و سیاسی عمل سے قطع تعلق کرلیا ہے، اس اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ریاست خان قلات اور محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے قومی وطن میں جاری قومی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے، انہوں نے کہا کہ اقتدار کوئی معنی نہیں رکھتا سیاسی عمل کے ذریعے بلوچستان کی آواز وفاق تک پہنچانے کیلئے الیکشن میں حصہ لیا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاریخی و ثقافتی حقوق ہیں اس سرزمین کا مسئلہ قطعاً طبقاتی نہیں، بعض عناصر ذاتی مفادات کیلئے قومی اجتماعی مسائل کی غلط تعبیر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حلیہ بگاڑ کر ملک میں غیراعلانیہ ون یونٹ قائم کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے لوگوں کے جذبات کو ابھارنا سیاست نہیں، سیاست آئندہ نسلوں کو آگئے لے کر بڑھنا ہے، بلوچستان کے لوگ پہلے ہی تکالیف مصائب اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں،بردار اقوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنا تاریخی کردار ادا کریں، انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے موجود ہیں تاہم ان کو عوامی حمایت حاصل نہیں اس کی وجہ سیاسی جماعتوں کا اپنے منشور پر عملدآمد نہ کرنا ہے، مادر وطن کے ساتھ نظریاتی فکری وابستگی رکھنے والے سیاسی کارکنوں اور عمائدین کی ایک بہت بڑی تعداد ہماری جدوجہد کا حصہ ہیں۔









