امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے عوامی حقوق کی بحالی ، پٹرول ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورتحال کے خلاف آئندہ چند دنوں بعد ملک گیر بڑی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے ۔
ملک بھر کے ذمہ داران کے آن لائن اجتماع سے منصورہ سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا بنیادی مقصد اقامتِ دین اور اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم کرنا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے عوامی تائید، رائے عامہ کی ہمواری اور منظم دعوتی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔
جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنان آئندہ دس روز تک ممبرسازی کی مہم میں تیزی لائیں اور اہداف حاصل کریں۔
نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، ڈپٹی سیکرٹریز وقاص انجم جعفری، نذیر جنجوعہ معاون خصوصی امیر جماعت ڈاکٹر سمیع شیرپاؤ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی سازش، خفیہ سمجھوتے یا غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عوام کی حمایت سے نظام کی تبدیلی چاہتی ہے۔
رائے عامہ کے بغیر آنے والا کوئی بھی انقلاب پائیدار نہیں ہوتا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ممبرسازی مہم دراصل ایک دعوتی مہم ہے جس کا مقصد تنظیم کو وسعت دینا، نئے افراد کو دعوت سے جوڑنا اور اقامتِ دین کی جدوجہد کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ آنے والے روز ممبرسازی مہم کے لیے وقف کیے جائیں اور تمام سطحوں کے ذمہ داران خود میدان میں نکل کر کارکنوں کے ساتھ کام کریں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مرحلے میں خواتین اور مردوں سمیت تقریباً 18 سے 20 لاکھ افراد ممبر بنے تھے جبکہ جماعت اسلامی کا ہدف مرحلہ وار ممبرسازی کو مزید وسعت دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ذمہ داران بھرپور محنت کریں تو موجودہ مرحلے میں 15 سے 20 لاکھ نئے ممبرز کا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بڑے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، کوئٹہ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور حیدرآباد کے ذمہ داران کو خصوصی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تمام علاقوں کو کور (Cover) کریں اور ممبرسازی مہم کو غیر معمولی انداز میں آگے بڑھائیں۔
جماعت اسلامی کے کام کی کامیابی دو پیمانوں سے دیکھی جا سکتی ہے ، ایک یہ کہ عوامی حمایت میں اضافہ اور دوسرا کارکنان، ارکان و حامیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، اگر یہ دونوں چیزیں بڑھ رہی ہوں تو تنظیم درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں مہنگائی، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے مسائل پر جماعت اسلامی کے مؤقف کو عوام تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس (Whatsapp Groups) کے ذریعے جماعت کا پیغام وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے۔
جماعت اسلامی عوامی مسائل پر سب سے توانا آواز ہے، تاہم اس آواز کی گونج کارکنان کے ذریعے ہی عوام تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ وفاقی بجٹ اور بجلی و پٹرول سے متعلق عوامی مسائل کے تناظر میں جماعت اسلامی مستقبل قریب میں احتجاجی یا عوامی تحریک کی کال (Call) دے گی، جس کے لیے کارکنان کی منظم اور فعال موجودگی ضروری ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے عوامی کمیٹیوں کو معاشرتی اصلاح، عوامی مسائل کے حل، نوجوانوں کی رہنمائی، منشیات کے خلاف مہم، مقامی تنازعات کے حل اور سماجی خدمت کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے ان کی تشکیل اور فعالیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ممبر سازی مہم کی تکمیل کے بعد ممبرشپ کنونشن اور عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کے کام میں بھی تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان کو قومی سطح کا سنگین مسئلہ قرار دیا اور ہدایت کی کہ اساتذہ، علما، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر سماجی شخصیات کو ساتھ ملا کر اس کے خلاف منظم مہم چلائی جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی تحریک ہے جو سیاست کو عبادت، دعوت اور انبیاءؑ کے مشن کے تسلسل کے طور پر دیکھتی ہے۔
انہوں نے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی، مالی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر بنائیں، معاملات میں دیانت اور شفافیت اختیار کریں اور اپنی دعوتی و تنظیمی ذمہ داریوں کو اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ انجام دیں۔ امیر جماعت اسلامی نے ممبرسازی کے عمل میں مرکزی ڈیجیٹل ایپ (Digital App) کے استعمال کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دستی فارموں کا ڈیٹا (Data) فوری طور پر سسٹم میں منتقل کیا جائے تاکہ تنظیمی رابطہ اور پیروی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔









