گائے کے گوشت اور ذیابیطس سے متعلق بڑا انکشاف

33

گائے کے گوشت کے استعمال اور ذیابیطس ٹائپ 2 یا ہائی بلڈ شوگر کے درمیان تعلق سے متعلق ایک نئی تحقیق میں اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔

انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے کی گئی اس کلینیکل تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح، انسولین کی حساسیت یا جسم میں ورم (inflammation) پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑتا۔

تحقیق میں 18 سے 74 سال کی عمر کے 24 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھے اور ہائی بلڈ شوگر کا سامنا کر رہے تھے۔

محققین نے شرکاء کو 28 روز کے دو مختلف غذائی مراحل سے گزارا، جن میں ایک مرحلے میں روزانہ تقریباً 100 گرام گائے یا مرغی کا گوشت استعمال کرایا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں انہیں گوشت سے مکمل طور پر دور رکھا گیا۔

دونوں مراحل کے دوران شرکاء کی انسولین حساسیت، بلڈ شوگر کی سطح اور دیگر میٹابولک اشاریوں کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق گائے کے گوشت کے استعمال اور نہ کرنے کے درمیان بلڈ شوگر یا انسولین کے افعال میں کوئی قابل ذکر فرق سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح مرغی اور گائے کے گوشت کے اثرات بھی تقریباً یکساں پائے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرخ گوشت میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں کرتا، تاہم انہوں نے مزید طویل المدتی تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

یہ تحقیق جرنل “کرنٹ ڈویلپمنٹ ان نیوٹریشن” میں شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں