12

خضدار میں انٹرنیٹ بندش کو ایک سال مکمل،عوام پریشان

خضدار میں انٹرنیٹ بندش کو ایک سال مکمل خضدار میں انٹرنیٹ سروسز کی بدترین صورتحال، عوام شدید پریشان۔خضدار میں انٹرنیٹ سروس کی بندش اور ناقص سہولیات کو ایک سال مکمل مگر تاحال عوام کے مسائل حل نہ ہوسکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورا خضدار نجی انٹرنیٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ منتخب نمائندے، ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیعوامی حلقوں کے مطابق نجی انٹرنیٹ کمپنیاں صارفین سے بھاری رقم وصول کرنے میں مصروف ہیں جبکہ پی ٹی سی ایل انتظامیہ بھی صرف من پسند اور بااثر افراد تک محدود ہوچکی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں سفارش اور تعلقات ہوں وہاں چند گھنٹوں میں کنکشن فراہم کردیا جاتا ہے، جبکہ عام لوگ برسوں سے انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پہلے لوگوں کو فلیش فائبر کے نام پر خاموش کرایا گیا، مگر اب وہی فلیش فائبر بھی مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔

کئی علاقوں میں لوگ بل جمع کروانے کے باوجود انٹرنیٹ سہولت سے محروم ہیں۔کاروباری طبقہ، طلبہ اور بیرونِ ملک مقیم افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ نہ ہونے سے ان کی تعلیم متاثر ہورہی ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم افراد اپنے اہل خانہ سے رابطہ رکھنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔.

شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں جہاں 5G انٹرنیٹ متعارف ہوچکا ہے، وہاں خضدار کے عوام آج بھی 2G اور 3G جیسی کمزور سروسز پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ دنیا جدید ٹیکنالوجی میں 7G کی باتیں کررہی ہے جبکہ خضدار ابھی تک بنیادی انٹرنیٹ سہولت سے محروم ہے۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، متعلقہ حکام، ایم این اے اور ایم پی اے سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور گھروں سے نکل کر عوام کے مسائل کا جائزہ لیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام نے نمائندوں کو صرف پارٹی کارکنوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خضدار کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے، لہٰذا عوام پر رحم کرتے ہوئے انٹرنیٹ مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں