بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے سینئر رہنماء سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالرئوف مینگل کے گھر خضدار میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے چھاپے کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اہلخانہ میں خوف و ہراس پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت اور ورکر اس طرح کی گھنائونی حرکتوں سے نا پہلے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ایسے اقدامات سے ڈریں گے پارٹی کو جان بوجھ کر دیوار کے ساتھ لگا کر سیاسی اور جمہوری جدوجہد کرنے کا راستہ روکا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے دیگر ساتھیوں مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، موسیٰ جان بلوچ، حاجی عبدالباسط لہڑی، میر عبدالوحید لہڑی، سابق رکن صوبائی شکیلہ نوید دہوار، میر غلام نبی مری، میر مقبول لہڑی، فریدہ ایڈووکیٹ، چیئرمین جاوید بلوچ ، صمند بلوچ سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 13 مئی کی صبح 8 بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری جس میں ایف سی ، سی ٹی ڈی اور اے ٹی ایف کے ہمراہ پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالرئوف مینگل کی رہائش گاہ پر بغیر کسی سرچ وارنٹ کے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر میں گھس گئے اور اہلخانہ میں خوف و ہراس پھیلاکر سرچ آپریشن کا بہانہ بنایا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی اور جمہوری لوگ ہیں قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے آپریشن کی قیادت ایک نقاب پوش میجر کررہا تھا جس سے میر عبدالرئوف مینگل نے ان سے سرچ آپریشن کی وجوہات اور وارنٹ کا دریافت کیا تو انہوں نے کچھ بھی بتانے سے گریز کیا اس گھنائونی کارروائی کا مقصد پارٹی قیادت ، رہنمائوں ، ورکروں اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کرکے خوف و ہراس میں مبتلا کرنا تھا انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی روز اول سے ہی بلوچستان کے حقوق کے حصول ساحل و وسائل پر عوام کی دسترس اور صوبے کے مفاد کے حوالے سے واضح موقف رکھتی ہے جس سے گرفتاریوں ، گھروں پر چھاپے ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتی اسی لئے سردار اختر جان مینگل اور پارٹی کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے ہٹانے کے لئے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور 8 فروری 2024ء کے بعد پارٹی سربراہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ اور علاقے میں جو کچھ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ عہدے اور وزارت ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی تھی جس پر سردار اختر جان مینگل قومی اسمبلی کی نشست چھوڑی ہے اور ہم اپنے سیاسی اور جمہوری موقف اور جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اس کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈال کر قدغن لگائی جارہی ہے ہمارے نوجوانوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ہراساں کیا جارہا ہے طاقت کے ذریعے ہر غلط اقدام مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جعلی عوامی نمائندوں کے ذریعے پارلیمنٹ سے جعلی قانون سازیاں کی جارہی ہے جن کی کوئی قانونی ، آئینی حیثیت نہیںہی









