مراکشی نژاد کینیڈین رقاصہ، گلوکارہ اور بالی ووڈ اداکارہ نورا فتحی نے ’’سرکے چنر‘‘ گانے تنازع پر بھارتی قومی کمیشن برائے خواتین سے معذرت کر لی۔
جمعرات کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر انھوں نے کہا کہ ان کا کسی کے جذبات مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ انھیں اس صورتحال میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ اس معاملے پر معذرت خواہ ہیں۔
خواتین کی غیر شائستہ عکاسی کے معاملے پر قومی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ وجیا راہتکار نے متنازع فلمی گانے سرکے چنر سے متعلق سماعت کی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں سنجے دت بھی شامل ہیں۔
جمعرات کو نورا دہلی میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔ اس سے قبل وہ ہندی ورژن سے لاتعلقی ظاہر کر چکی تھیں اور کہا تھا کہ انہوں نے صرف کناڈا ورژن کی شوٹنگ کی تھی، جبکہ ہندی ورژن بنانے سے پہلے ان کی رضامندی نہیں لی گئی۔
کمیشن کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 34 سالہ نورا نے بتایا کہ انہوں نے تحریری معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پبلک فیگر اور فنکارہ ہونے کے ناطے وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتی ہیں۔
نورا نے بتایا کہ بطور اصلاحی اقدام کے طور پر انہوں نے یتیم بچیوں کی تعلیم کی کفالت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ کمیشن نے بہت مہربانی اور مدد کی۔ ہمارے لیے معاشرے کو واپس کچھ دینا بہت ضروری ہے، اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ چند یتیم بچیوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی جائے۔ یہی اس معاملے کے بعد ہمارا مقصد ہے۔









