پاکستان ریلوے ورکرز یونین (اوپن لائن) کوئٹہ ڈویژن کے صدر شیر محمد بلوچ، جنرل سیکرٹری محمد سلیم سرپرہ، چیف آرگنائزر سید محمد بگٹی، جوائنٹ سیکرٹری محمد نصیر راجپوت، چیئرمین جاوید مینگل، وائس چیئرمین حسن خان کھتران، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عاقل خان، ڈپٹی چیف آرگنائزر احتشام حمید، سینئر نائب صدر عرفان جان اور میڈیا کوآرڈینیٹر محمد حمزہ نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک مشترکہ اور سخت لہجے میں بیان جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آنے والے بجٹ میں وفاقی و صوبائی ملازمین، خصوصاً ریلوے ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ دور کی بدترین مہنگائی نے مزدور طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس، ادویات اور بچوں کی تعلیم سمیت ہر بنیادی ضرورت عام ملازم کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ ایک طرف حکمران طبقہ مراعات پر مراعات لے رہا ہے جبکہ دوسری طرف غریب سرکاری ملازمین اور ریلوے ورکرز اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے شدید ذہنی اذیت اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔
یونین رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل الاؤنس اور کنونس الاؤنس میں کم از کم 200 فیصد اضافہ کیا جائے کیونکہ موجودہ الاؤنس موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں مذاق بن چکے ہیں۔ ریلوے ملازمین دن رات سخت ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں مگر انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ بیمار ملازمین مہنگے علاج کی وجہ سے پریشان ہیں جبکہ سفری اخراجات میں کئی گنا اضافے کے باوجود کنونس الاؤنس انتہائی ناکافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ریلوے میں ملازمین کی شدید شارٹج ہے۔ ایک ایک ملازم سے چار چار ملازمین کا کام لیا جا رہا ہے۔ ریلوے کے مختلف شعبوں میں اسٹاف کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے لیکن نئی بھرتیوں کے بجائے موجودہ ملازمین پر غیر انسانی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ آٹھ گھنٹے کی مقررہ ڈیوٹی کے بجائے ملازمین سے بارہ سے چودہ گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹی لی جا رہی ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اضافی اوقات کار کا مناسب معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جاتا۔
یونین رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر آنے والے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور ریلوے ورکرز کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو ملک بھر کے ریلوے مزدور شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ریلوے مزدور اس ملک کی معیشت کا اہم ستون ہیں۔ سخت گرمی، سردی اور مشکل حالات میں ریلوے ملازمین اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ٹرین آپریشن کو جاری رکھتے ہیں، مگر افسوس کہ انہی مزدوروں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ مزدور دشمن پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے اور محنت کش طبقے کو اس کا جائز حق دیا جائی









