31

جمعیت کا احتجاج 20 مئی تک موخر کرنے کا اعلان،مدارس کیخلاف کارروائی اور تالہ بندی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی گئیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور دینی مدارس کی رجسٹریشن اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور دینی مدارس کی رجسٹریشن اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

اس موقع پر صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف کارروائی اور تالہ بندی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی گئیں حالانکہ حکومت کا نہ کبھی ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس معاشرے کا اہم حصہ ہیں

حکومت ان کی ترقی و بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری کرے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ مدارس رجسٹریشن ایکٹ منظور کرچکی ہے اور اب اسے بلوچستان اسمبلی میں بھی پیش کیا جانا ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جبکہ مولانا عبدالواسع نے بھی اپنے مطالبات اور تجاویز پیش کی ہیں

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے اتحادی دوستوں نے مولانا عبدالواسع سے دس دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اپنی پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا جاسکے کیونکہ بنیادی طور پر یہ فیڈریشن سے متعلق قانون سازی ہے جس کو اب صوبائی اسمبلی میں آنا ہے

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں اتفاق رائے سے قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور ان شاء اللہ یہ معاملہ باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے حل ہوجائے گا۔

انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کی قیادت نے ہمیشہ عزت، احترام اور شفقت دی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دینی مدارس ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ہم انہیں ہمیشہ دل کے قریب سمجھتے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مدارس کے معاملے پر حکومت اور جے یو آئی کے درمیان گزشتہ 15 روز سے کشیدگی جاری تھی، تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج 20 مئی 2026 تک مؤخر کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے گزشتہ روز مدارس کے معاملے پر تاریخی ہڑتال کی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان ایک وفد کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ آئے اور معاملات پر تفصیلی بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے رویے پر معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اپنی حکومت کے دوران آئندہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں مدارس کی رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ نے مدارس سے متعلق بل اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے احتجاج 20 مئی تک مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر جے یو آئی نے مشاورت کے بعد احتجاج عارضی طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں