جمعیت علماء اسلام کی اپیل پر صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی (آج)بدھ کومکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ اس سلسلے میں ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس کی سربراہی میں قائم کمیٹی جس میں سید حاجی عبدالواحد آغا، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی صالح محمد، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور سیٹھ اجمل بازئی شامل تھے نے مختلف تاجر تنظیموں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
وفد نے مدارسِ دینیہ کے حوالے سے حکومتی جبر و استبداد اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس کے مضمرات سے آگاہ کیا۔وفد نے انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، میریاسن مینگل، حضرت علی اچکزئی اور دیگر ذمہ داران سے ملاقات کی جس میں صوبائی کابینہ، اضلاع اور یونٹس کے صدور بھی موجود تھے۔
اس موقع پر صدر عبدالرحیم کاکڑ نے جمعیت علماء اسلام کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی ریلی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
مزید برآں وفد نے انجمن تاجران رحیم آغا گروپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری ولی افغان، نائب صدر کبیر آغا، سٹی صدر ولی محمد ترین، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے چیئرمین یاسین آغا اور ان کی کابینہ، بلوچستان پراپرٹی ڈیلرز اینڈ بلڈرز ایسوسی ایشن کے صدر امیر حمزہ، اتحاد تاجران ہزارگنجی کے صدر سید حیدر شاہ آغا، جنرل سیکرٹری حاجی سعد اللہ لہڑی، اور ال مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر حبیب اللہ داوی سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں وفد نے مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کے منفی اثرات کو اجاگر کیا جس پر تمام تاجر تنظیموں نے جمعیت علمائ اسلام کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے مکمل تعاون اور شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں وفد نے پاکستان بار کونسل کے منیر احمد کاکڑ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر جاڑین بلوچ اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اورنگزیب کاکڑ سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی ہڑتال اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔مجموعی طور پر شہر کی تاجر و وکلائ برادری نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیت علمائ اسلام کے مؤقف کی تائید کی۔









