امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر جدید ہائپرسونک میزائل سسٹم ڈارک ایگل کی تعیناتی کی تجویز دی ہے جس کا ہدف ایران کے اندر دور دراز علاقوں میں موجود میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی تو یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکا عملی طور پر ہائپرسونک ٹیکنالوجی میدان میں استعمال کرے گا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈارک ایگل پروگرام کافی عرصے سے تاخیر کا شکار رہا ہے اور اسے تاحال مکمل طور پر آپریشنل قرار نہیں دیا گیا تاہم حالیہ پیش رفت اسے دوبارہ توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس اقدام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران نے اپنے میزائل لانچرز کو ایسے مقامات پر منتقل کر دیا ہے جو روایتی پریسیژن اسٹرائیک میزائلز کی رینج سے باہر ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ میزائل 300 میل سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے جواب میں امریکا جدید اور تیز رفتار نظام پر غور کر رہا ہے۔









