ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین علاء الدین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ میں ہمارا پلڑا بھاری ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ایرانی مجلس شوریٰ میں قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین علاء الدین بروجردی نے جنگ میں فاتح ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اب تک اپنے نئے پتے نہیں کھیلے۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے حلیف اور بھائی یمنی بھی اس انتظار میں ہیں کہ کب اشارے ملے اور وہ آبنائے باب المندب کو بند کرکے امریکا کو ایک اور ضرب لگائیں جیسا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے امریکا کو نقصان پہنچایا ہے۔
علاء الدین نے کہا کہ آبنائے باب المندب کی جغرافیائی، تجارتی اور معاشی اہمیت بھی آبنائے ہرمز سے کسی طور کم نہیں ہے۔ اس کی بندش سے بھی امریکا کو کافی ٹھیس پہنچائی جا سکتی ہے۔
تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یمنی اب تک کیوں رکے ہوئے ہیں اور اس آبنائے کی بندش ایران کے جنگی منصوبے کا حصہ ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ نہر سویز تک رسائی کے لیے بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والے تجارتی جہازوں کو آبنائے باب المندب سے لازمی گزرنا ہوتا ہے جو یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر جب کہ جبوتی اور اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی بحری تجارت کی اہم آبی گزرگاہ بننے والی آبنائے باب المندب 115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی ہے۔ جو یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے چھوٹا سمندری راستہ بن گیا ہے۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے اور روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل یہاں سے ترسیل ہوتا ہے۔
اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ رک گیا ہے اگر آبنائے باب المندب بھی بند ہوگئی تو مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل بھی رک جائے گی۔
یہ بھی یاسد رہے کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے باب المندب سے ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔









