گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے زیرتربیت سندھ پولیس آفیسرز کا گورنر ہاؤس کوئٹہ میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آپ محض سندھ کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے محافظین ہیں۔ افسران کے استعداد کار کو بڑھانے اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے پروفیشنل ٹریننگ کی اشد ضرورت ہے۔
اپنے فرائض سرانجام دیتے وقت آپ کو اس ٹریننگ کورس سے بہت مدد اور رہنمائی ضرور ملے گی۔ اس اہم ٹریننگ کورس کی تکمیل کے بعد آپ سب پر یہ بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ پولیس کے شعبے میں اپنے علم اور تجربے کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لائیں گے لہٰذا آپ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ پولیس آفیسرز کے ساتھ گورنر ہاؤس کوئٹہ میں انٹرایکشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انٹرایکشن کے دوران سرفراز احمد فلکی ڈی آئی جی ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنربلوچستان عبدالناصر دوتانی اور نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے محمد زمان بھی موجود تھے۔ مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے سندھ کے زیر تربیت پولیس آفیسرز نے سکیورٹی، ہائیر ایجوکیشن، لڑکیوں کی تعلیم، ڈویلپمنٹ میں عوام کی شرکت اور حکومتی اقدامات سے متعلق سوالات کیے جن کا گورنر بلوچستان نے تفصیلی جواب دئیے۔
سندھ پولیس آفیسرز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اپنی قیمتی معدنیات، طویل کوسٹل بیلٹ اور خاص طور پر اپنے جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ بلوچستان پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ آج گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مجھے سندھ پولیس کے زیر تربیت تمام ڈی ایس پیز کا استقبال کرنے پر فخر ہے جن میں سے نو باصلاحیت خواتین افسرز بھی شامل ہیں۔
آپ کی یہاں موجودگی پیشہ ورانہ ترقی اور خدمت خلق کی عمدہ کارکردگی کیلئے آپ کے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے آپ کے اس مطالعاتی دورے کا مقصد صرف تربیت نہیں ہے بلکہ آپ کی قیادت، مہارت، اور محفوظ مستقبل کیلئے وڑن کو تیز کرنا ہے۔ گورنر نے دعا کی کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں آپ کا قیام یادگار اور خوشگوار ہو۔









