41

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے؟ امریکی فوجی حکمت عملی سامنے آگئی

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے؟ امریکی فوجی حکمت عملی سامنے آگئی، درجن سے زائد جنگی جہاز سے زیادہ لڑاکا طیارے اور 10ہزار فوجی ناکہ بندی میں شامل ہیں۔

امریکی افواج کو گزرنے والے جہازوں کو روکنے اور قبضہ کرنے کا اختیار حاصل، سینٹ کام کے مطابق ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔

مشکوک جہازوں کی نشاندہی ڈرونز، سیٹیلائٹس اور ریڈار سے کی جا رہی ہے، جہاز کو ریڈیو کے ذریعے روکا جاتا ہے، اسپیشل فورسز ہیلی کاپٹر سے جہاز پر اتر کر تلاشی لیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاز قبضے میں لینا قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی عالمی سمندری قوانین کے منافی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد متعدد آئل ٹینکر ایرانی بندرگاہوں سے نکل کر آبنائے ہرمز سے گزر گئے، جسے خلیجِ عمان میں تعینات امریکی جنگی جہازوں کے لئے ایک آزمائش قرار دیا جا رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی فوج، جسے اس ناکہ بندی پر عمل درآمد کے احکامات دیے گئے ہیں، کا ردعمل کئی ہفتوں سے جاری اس تنازع میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، اس آپریشن کے لیے بحری، فضائی اور انٹیلی جنس وسائل کی بڑی تعداد درکار ہے، جبکہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ مشتبہ جہازوں کو کب اور کہاں روکا جائے اور بعد ازاں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

امریکا اس سے قبل وینزویلا کی جزوی ناکہ بندی میں بھی ایسی حکمتِ عملی استعمال کرچکا ہے۔ امریکا نے اس ناکہ بندی کے لئے ایک بڑی فوجی قوت مختص کی ہے، جس میں درجن سے زائد جنگی جہاز، 100 سے زیادہ لڑاکا اور نگرانی کرنے والے طیارے اور10 ہزار سے زائد فوجی شامل ہیں۔

جنگ بندی میں صرف آٹھ دن باقی ہیں اور ماہرین کے مطابق ایران کو تیل کی برآمدات میں کمی سے معاشی دباؤ محسوس کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ سابق وائس ایڈمرل کیون ڈونیگن کے مطابق،تاریخی طور پر ناکہ بندیاں فوری نتائج نہیں دیتیں بلکہ اثر انداز ہونے میں وقت لیتی ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری آمدورفت کو روکے گی، تاہم غیر ایرانی بندرگاہوں سے منسلک تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ ناکہ بندی آبنائے ہرمز کے مشرق میں خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب میں نافذ کی جائے گی، جہاں روکنے، موڑنے اور قبضے میں لینے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ابتدائی 24 گھنٹوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کوئی بھی ایرانی بندرگاہ سے آنے والا جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا۔

جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک پابندی زدہ ٹینکر نے یوٹرن لیا جبکہ دیگر بھی رک گئے۔ امریکی جنگی حکمتِ عملی کے تحت طیارہ بردار جہاز، ایمفیبیئس اسالٹ شپ اور ڈسٹرائرز اس کارروائی میں شامل ہیں، جبکہ F-35، F-18، F-16 اور F-15 جیسے لڑاکا طیارے ممکنہ ڈرون یا میزائل حملوں سے دفاع کے لیے فضا میں موجود رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں