کوئٹہ، پنجگور، تربت، کیچ، آواران، گوادر، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ، خضدار، خاران، چاغی، دالبندین، سبی، سوراب، کوہلو، بارکھان، نصیر آباد، جھل مگسی، جعفر آباد، اوستہ محمد، کوئٹہ، دکی، کچھی، صحبت پور، مستونگ، لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل اور قلات سمیت متعدد علاقوں میں جمعرات کو دوسرے روز بھی موسلا دھار بارشوںکا سلسلہ جاری رہا ،حالیہ بارش اور سیلاب سے ہرنائی ،کوہلو،تربت،جعفرآباد، لورالائی اور کچھی میں 7 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں بالا ناڑی میں پشتہ ٹوٹنے سے 100 مکانات تباہ اور 50 مویشی ہلاک ہوئے جب کہ بالاناڑی میں 400 ایکڑ زرعی زمین بھی زیرِآب آگئی۔
ہرنائی اور قلعہ عبداللہ میں تقریباً 100 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ جھل مگسی میں سیلابی ریلے کے باعث گنداواہ نوتال روڈ بند ہوگئی۔ ز بارش کے باعث ہرنائی تا کوئٹہ اور کوئٹہ تا سنجاوی قومی شاہراہ مختلف مقامات پر بہہ جانے سے بند ہو گئی قومی شاہراہوں کی بحالی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
نصیرآباد ،جعفرآباد، کچھی جھل مگسی ،ڈیرہ بگٹی، مچھ، بھاگ، بختیارآباد، سبی اوستہ محمد، صحبت پور سمیت دیگر علاقوں میں آندھی کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں ہوئی ناڑی بینک اور کچھی کینال میں شگاف پڑنے سے ڈیرہ بگٹی بھاگ ناڑی کے سینکڑوں دیہادت پانی میں ڈوب گئے
سینکڑوں مال مویشی گھریلو سامان ڈوب گیا کروڑوں روپے کی کھڑی فصلات تباہ نوتال گنداواہ اور بولان یاروکازوے بند سندھ بلوچستان اور گنداواہ جھل مگسی کا زمینی منقطع ہوگیا ڈیرہ مراد جمالی میں بھی کچے مکانات مہندم چار افراد کے زخمی ہوگئے ،ناڑی بینک سے آنے والے سیلابی ریلے نے بھاگ جلال خان سمیت دیگر علاقوں میں تباہی مچادی بند ٹوٹنے سے ایک سو سے زیادہ دیہی علاقے پانی میں ڈوب گئے سینکڑوں مال موشی ہلاک جبکہ کروڑوں روپے کی کھڑی زرعی فصلیں گندم چنا سرسوں ودیگر تباہ ہوکر رہ گئی علاقائی مکین اپنی مددآپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل جبکہ کچھی کینال کو سوئی کے قریب شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے ادھر نوتال لانڈھی شریف گنداواہ اور جھل مگسی میں شدید بارشوں سے روڈ متعدد مقامات پر ٹوٹنے سے گناواہ جھل مگسی کا زمینی راستہ کٹ گیا جبکہ بولان یارو کازوے کے مقام پر اونچے درجہ کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے
جس سے کوئٹہ جیکب اباد راستہ بند ہو گیا جس سے سندھ اور بلوچستان کی ٹریفک معطل ہوکر رہ گئی ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئی ٹریفک کو سبی ڈھاڈر ڈیرہ مراد جمالی ودیگر مختلف مقامات پر روک دیا ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ڈیرہ مراد جمالی میں شدید بارش کے باعث چار کچے مکانات منہدم ہونے سے پانچ افراد زخمی ہو گئے زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ڈیرہ اللہ یار اوستہ محمد صحبت پور میں بھی بارشوں نے انسانی زندگی مفلوج کردی۔
ادھر کوہلو کے علاقے میں بارش کے باعث گھر کی دیوارگرنے سے ملبے تلے دب کر ایک بچی زخمی ہوگئی جمعرات کو کوہلو کے علاقے لاسے زئی میں بارش کے باعث گھر کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک کم عمر بچی زخمی ہوگئے شہریوںاورریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے سے بچی کو نکال کر ہسپتال پہنچادیاجہاں اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈ ی جی خان ریفر کردیا گیا گوادر میںطوفانی بارشوںنے احلی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
گوادر کے نواحی دیہاتی علاقے گروک کے رہائشی غریب چرواہے عبدالحکیم کی 20 بکریاں ہلاک ہوگئیں۔ گزشتہ شب سے صحبت پور سمیت مانجھی پور ، پہنورسنہڑی میہوپور و گردونواح میں طوفانی بارشوں نے یہاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ابر رحمت نے نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا روڈ راستے اور نالیاں جھیلوں کا منظر پیش کرنے لگیں
جبکہ بارش کی وجہ سے ربیع کی فصلات کو نقصان کا اندیشہ جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک بارشوں جاری رہنے کی پیشگوئی کر دی ضلع ہرنائی اور گردونواح میں طوفانی بارشوں اور شدید ڑالہ باری نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع کر کے مقامی زمینداروں کو بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔
حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ایس ڈی او ایریگیشن سید آصف شاہ بخاری نے وتی بند کا تفصیلی دورہ کیا۔
اگرچہ بند سے چھوٹے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔
دوسری جانب، سب تحصیل کھوسٹ کے مقام پر زردالو پل کے قریب سیلابی ریلے کے باعث کوئلے سے لدا ٹرک الٹنے سے شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس طرح ہرنائی کے علاقے خوزڑی میں غیر معمولی ڑالہ باری نے باغات اور تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے مقامی زمینداروں کی جمع پونجی ضائع ہو گئی۔ ادھر چمن پاک آفغان سرحدی علاقوں سمیت شمالی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خواجہ عمران، گلستان توبہ آچکزئی، قلعہ عبداللہ میزئی اڈا اور پورے چمن قلعہ عبداللہ اور پشین میں کل رات سے وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئیہیں محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دن تک مزید بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات کی ہیں
چمن شہر و گردونواح میں موسلا دھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث اکثر میدانی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں اور بعض علاقوں میں ژالہ باری سے فصلوں اور باغات کو نقصانات پہنچنے کا اندیشہ پایا جاتا ہے حالیہ شدید بارشوں کے دوران ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے عوام کو سیلابی ندی نالوں کو پار کرنے سے عوام کو منع کرنے کی درخواست کی ہے ڈی سی چمن نے کہا کہ اگر کسی نے سیلابی ریلوں سے گزرنا ہی ہے
تو پھر کسی پل اور سیف جگے پر روڈ پار کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنی زندگیوں کو خطرات سے دو چار نہ کریں انہوں نے کہا کہ کبھی نہ آنے سے دیر سے آنا بہتر ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے اسلئے عوام الناس احتیاط کو اپنے زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ چمن عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے مستعد ہے اور ضلعی انتظامیہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کیساتھ ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کیلئے الرٹ ہے۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ حسین مگسی کا حالیہ شدید بارشوں کے دوران متاثرہ علاقوں کا دورہ، ڈی سی قلعہ عبداللہ نے بارشوں اور سیلابی ریلوں کے راستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا قلعہ عبداللہ میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ، منور حسین مگسی نے ضلع کے مختلف متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیلابی ریلوں کے گزرگاہوں، نکاسی آب کے نظام اور مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انجینئر غلام رسول اور ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین ایف سی اور پولیس اہلکاران بھی موجود تھے ڈی سی قلعہ عبداللہ نے مختلف مقامات کا معائنہ کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد سے ملاقات کی،
ان کے مسائل سنے اور انہیں درپیش مشکلات کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرین تک فوری طور پر امداد پہنچائی جائے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت کسی بھی متاثرہ فرد کو اکیلا نہیں چھوڑے گی اور نقصانات کا تخمینہ لگا کر جلد از جلد ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے کام کرتے ہوئے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم سے کم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شدید سیلابی ریلوں اور ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں اور ایک دو گھنٹے انتظار کریں اور جب تک سیلابی ریلے کی بہا کم ہو جائے تو پھر ندی نالوں کو پار کریں اور اپنے اور دوسروں کی زندگیوں کو دا پر جلدبازی کی وجہ سے خطرات میں نہ ڈالیں انہوں نے کہا کہ کبھی نہ آنے سے دیر سے آنا بہتر ہے اور کسی بھی شخص کا وقت انکی زندگی سے سے قیمتی نہیں لہذا احتیاط اور انتطار کریں جب تک سیلابی ریلوں میں پانی کا بہا کم ہو جائے تو پھر کسی سیف جگے سے پار کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق تیز آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور ڈھانچوں جیسے بجلی کے کھمبے، بل بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ دن کے درجہ حرارت میں کمی کا بھی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے ٹرانسپورٹرز، مسافروں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔









