3

نیٹوپر اربوں ڈالرخرچ کیےلیکن وہ ہمارےدفاع کیلئے موجود نہیں، آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر ٹرمپ کے شکوے

آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر دنیا سے ناراض ہوگئے، کسی کو طعنہ دیا تو کسی کو دھمکی دی۔

امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیٹوکےلیےموجود رہے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا، ہم نےنیٹوکےدفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کےلیے وہ موجود نہیں۔

صدر ٹرمپ بولے برطانوی وزیراعظم نے انہیں مایوس کیا، جنگ جیتنےکےبعد اسٹارمر نےجنگی طیارے بھیجنےکا اعلان کیا، برطانوی وزیراعظم کوبتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہاز وں کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ نے کہا امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے، آبنائے ہُرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جن ملکوں کا تیل آبنائے ہُرمُز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔

امریکی صدر نےکہا ایران میں مذاکرات کےقابل کوئی قیادت موجود ہی نہیں، میرے خیال میں ایران کے نئےسپریم لیڈر بھی زندہ نہیں ہیں، انہوں نے دعویٰ کیاکہ پچھلی قیادت امریکی عوام کے ساتھ فراڈ میں ملوث تھی۔

صدر ٹرمپ بولے پرتشدد لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ ہمارے خلاف استعمال کرتا، ایران اپنے پڑوسیوں پر میزائل حملے کررہا ہے، ایران تباہی کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کی قیادت کرنا چاہتا ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا جنگ اس ہفتےختم ہوجائےگی؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیاکہ ابھی کچھ نہیں بتا سکتالیکن جنگ جلد ختم ہوجائےگی۔

امریکی صدر نے کہا چین کا دورہ کرنا چاہتاہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہناپڑےگا، ہم نے درخواست کی ہے کہ چین کا دورہ ایک ماہ کےلیے ملتوی کریں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ؤ نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ملکوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ چین کا 90 اور جاپان کا 95 فیصد اورکوریا کا 35 فیصد تیل ہرمز سے گزرتا ہے، چین اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بحری بیڑے بھیجیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں