7

روزہ رکھنے والے کیا کھائیں پیئیں، اور کن چیزوں سے پرہیز کیا جائے؟

رمضان المبارک میں جہاں عبادات اور سماجی مصروفیات میں اضافہ ہوجاتا ہے، وہیں افطار اور سحری کے متنوع اور لذیذ کھانے اکثر غیر متوازن غذائی عادات کا باعث بن جاتے ہیں۔

رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ دعوتوں کا سلسلہ، کم جسمانی سرگرمی اور زیادہ کھانا بعض افراد میں وزن بڑھنے کا باعث بنتا ہے، جبکہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے رمضان المبارک کے دوران صحت مند رہنے کے لیے جامع رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ہدایات پر عمل نہ صرف وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو بھی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ادارے نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ رمضان کے بعد بھی ان صحت مند عادات کو برقرار رکھا جائے۔

ماہرین کے مطابق روزہ داروں کو افطار سے سحری کے درمیان کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے ساتھ پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، سلاد اور تربوز کا استعمال بھی مفید ہے۔ کیفین والے مشروبات جیسے چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ میٹھے مشروبات غیر ضروری کیلوریز کا باعث بنتے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران دھوپ سے بچنا اور ٹھنڈی جگہ پر رہنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

افطار کے حوالے سے ماہرین متوازن غذا پر زور دیتے ہیں۔ روزہ کھولنے کے لیے کھجور ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ فائبر اور فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ افطار میں سبزیوں، ثابت اناج اور کم چکنائی والے پروٹین جیسے گرل یا بیک کیا ہوا گوشت، چکن یا مچھلی شامل کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس تلی ہوئی، زیادہ چکنائی اور زیادہ چینی والی اشیا سے پرہیز کرنے اور آہستہ آہستہ کھانے کی عادت اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زیادہ کھانے سے بچا جا سکے۔

سحری کو نظر انداز نہ کرنے کا بھی خاص مشورہ دیا گیا ہے، خصوصاً بزرگ افراد، نوجوانوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے۔ سحری میں سبزیاں، گندم کی روٹی، اور پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈا، دودھ یا پنیر شامل کرنا مفید ہے۔ مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھا جائے اور میٹھے کے طور پر موسمی اور پانی سے بھرپور پھلوں کو ترجیح دی جائے۔

نمک اور چکنائی کے استعمال میں احتیاط بھی نہایت اہم قرار دی گئی ہے۔ کھانے کو تلنے کے بجائے بھاپ میں پکانا، بیک کرنا یا کم تیل میں تیار کرنا بہتر ہے۔ پروسیسڈ اور زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، اچار، نمکین اسنیکس اور مختلف ساسز سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کھانا بناتے وقت نمک کم استعمال کریں اور ذائقے کے لیے جڑی بوٹیوں کا استعمال کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں اور آہستہ کھانا نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھتا ہے اور سینے کی جلن یا بے چینی سے بچاتا ہے۔ اس کے ساتھ شام کے اوقات میں ہلکی جسمانی سرگرمی، جیسے چہل قدمی، صحت مند طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں