پاکستان نے زرمبادلہ ذخائرکو مستحکم کرنے کیلیے 60 کروڑ ڈالرزکا قلیل مدتی قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ تجارتی فنانسنگ سہولت برطانیہ کے بینک اسٹینڈرڈچارٹرڈبینک سے لی جارہی ہے،جس کی مدت چھ سے نوماہ ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے 60 کروڑڈالرزکی ٹریڈفنانس سہولت کی ٹرم شیٹ قبول کر لی ہے اور باقاعدہ معاہدہ جلد متوقع ہے۔
اس سہولت پر شرح سود تقریباً 6.3 فیصد ہوگی، جو سیکیورڈ اوورنائٹ فنانسنگ ریٹ کے ساتھ 2.6 فیصد اضافے کے برابر ہے، منگل کے روز SOFR کی شرح 3.66 فیصدریکارڈ کی گئی تھی۔
قرض خام تیل اورگیس کی درآمدات کی ادائیگیوں کیلیے استعمال کیاجاسکے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت متحدہ عرب امارات سے حاصل کردہ 3.5 ارب ڈالرکے قرض پرشرح سودمیں کمی کی خواہاں تھی،تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب حکومت کورواں مالی سال کے دوران بیرونی کمرشل قرضوں اورخودمختار بانڈزکے اجراسے خاطرخواہ رقوم حاصل نہیں ہوسکیں۔
وزارت اقتصادی امورکے اعداد وشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں صرف 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالرکے کمرشل قرضے موصول ہوئے،جبکہ بجٹ میں 3.1 ارب ڈالرکاہدف رکھاگیا تھا۔
اسی ہفتے پاکستان نے چین کے ترقیاتی بینک کا 70کروڑ ڈالرکاقرض واپس کیا،جس کے بعد 10 فروری تک مرکزی بینک کے پاس سرکاری زرمبادلہ ذخائر عارضی طور پر کم ہوکر 15.5 ارب ڈالررہ گئے۔
حکومت کو امید ہے کہ یہ قرض جون میں دوبارہ ری فنانس ہوجائیگا۔حکومت نے رواں مالی سال کیلیے مجموعی طور پر 26 ارب ڈالرکے بیرونی قرضوں کاتخمینہ لگایاتھا، تاہم اب تک صرف 5.7 ارب ڈالر موصول ہوسکے ہیں،جن میں آئی ایم ایف کی رقم بھی شامل ہے۔
برآمدات میں بھی پہلے 7 ماہ کے دوران 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ،جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 41 فیصدکم ہوکر 98 کروڑ 10 لاکھ ڈالررہ گئی ہے،حکومت کی کوشش ہے کہ جون کے اختتام تک سرکاری زرمبادلہ ذخائرکو 18 ارب ڈالرسے زائدتک بڑھایا جائے۔









