12

سیاسی لوگ عوام کے مفادات کے ذمہ دار ،اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے ،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی

سینئر سیاستدان سابق سینیٹر سربراہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ سیاسی لوگ عوام کے مفادات کے ذمہ دار ہیں لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے کیونکہ انہوں نے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دینا ہوتی ہے،مائنز اینڈ منرل ایکٹ کا قانون ہماری آنے والی نسلوں کے وسائل کی لوٹ مار کیلئے ہے ،پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو اپنی نسلوں کے وسائل کو بے دریغ طریقے سے لوٹنے سے بچانے کے لئے اسمبلی میں ازسرنو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو قانون دان بیرسٹر محمداقبال کاکڑاور پروفیسر حنیف بازئی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ 12 مارچ 2025ء کو بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ سال مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کیا تھا جس کے ذریعے بلوچستان میں بسنے والے لوگوں کی سرزمین قدرتی اور معدنی وسائل کی لوٹ مار اور اس کے فروخت کرنے کے تمام اختیارات صوبائی اور وفاقی حکومت کو سونپے گئے اس حوالے سے ایک 7رکنی کمیٹی کے توسط سے زمینوں اور معدنی علاقوں کی الاٹمنٹ کرنے کے تمام اختیارات ایک ڈی جی رینک کے آفیسر اور کمیٹی کو دیئے گئے جو یہ اختیارات اور قانون سازی اٹھارویں ترمیم کے متصادم ہے کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں تمام اختیارات صوبوں کو سونپے گئے اس پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے کوئی آواز نہیں اٹھائی حالانکہ یہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق کے حصول کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرتے ہوئے عوام اور ریاست کے درمیان سیاسی جماعت کے توسط سے بحیثیت سیاستدان پل کا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ عوام کے مفادات کے ذمہ دار ہیں لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے کیونکہ انہوں نے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دینا ہوتی ہے حالانکہ انہیں اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے خلاف کسی بھی سیاسی جماعت نے آواز نہیں اٹھائی ہم نے بحیثیت بلوچستانی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے آواز اٹھائی اور پارلیمنٹ کے باہر سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں، وکلاء، صحافیوں سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطہ رکھا اور انہیں اس حوالے سے متحد ہوکر اس کا راستہ روکنے کیلئے کردار ادا کرنے کے لئے متحرک ہونے کیلئے رابطے بحال رکھے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کا پہلے ہی سودا ہوچکاہے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کے حقوق سلب کرنے کا قانون ہے مائنز ایکٹ کے پس پردہ چھوٹے چھوٹے مفادات وصول کئے گئے جس میں اسمبلی کی پانچ سال کی سیٹ سمیت دیگر مفادات شامل ہیں۔

آئین کو پس پشت ڈال کر ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا اس لئے ہم نے قانون کے فوراً بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری سے گریز کرنے کا عندیہ دیا تھا مائنز ایکٹ کے خلاف ہماری آئینی درخواست عدالت میں زیر سماعت ہے ایکٹ کے تحت ہمارے وسائل لوٹے جارہے ہیں جسکے خلاف جس میں پارلیمنٹ، عدلیہ سمیت دیگر فورم پر آواز اٹھائی آئندہ نسلوں کی بقاء صوبے کے وسائل پر دسترس میں ہے ہر سیاسی جماعت کے پاس گیا مگر انہوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیاجو ان کی آئینی، سیاسی، سماجی ذمہ داری تھی۔

اگر میں ان فورمز سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور نمائندوں سے رابطہ نہ کرتا تو پھر مجھے کہا جاتا کہ آپ نے ان سے رابطہ کیوں نہیں کیا کیونکہ تاریخ ایسے اقدامات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں اور نمائندوں نے اس قانون کا ازسرنو جائزہ لیکر صوبے کے وسائل لوٹنے کا راستہ نہ روکا اور اس میں تبدیلی نہ کی تو پھر ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح لوگوں نے 31 جنوری کو شہر میں آنے والوں کے ساتھ عوام نے مثبت رویہ اپنایا انہیں اس حوالے سے زیادہ فوقیت دیں گے جس سے حقیقی نمائندوں کا راستہ روک کر فارم 47 کے ذریعے لائے جانے والوں کے لئے بھی آگے جانے کا کوئی راستہ متعین ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عدلیہ بھی اپنا موثر کردار ادا کرے۔محکمہ معدنیات کی جانب سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے مذکورہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے ملتوی کرنے کے باوجود الاٹمنٹ کے حوالے سے ٹینڈرنگ اور خبریں چل رہی ہے جس کی تفصیل حاصل کرنے کیلئے خط لکھا مگر کوئی جواب نہیں آیااس سے قبل بھی عدالت سے وزیر اعلیٰ کے ایگزیکٹو آرڈر کی کاپی کے حصول کی درخواست دی ہے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اقتدار میں آنے کیلئے چور راستے پر یقین نہیں رکھتا اور ہم نے انصاف کے حصول اور اپنے لوگوں کو غلط قانون سازی سے بچانے کے لئے عدالت میں اپنی فریاد لے کر گئے ہیں آنے والا وقت بتائے گا انہوں نے کہا کہ نئے پروجیکٹ کے تحت اسمبلی کو کوٹہ دیاگیا ریاست کی رٹ ختم ہوچکی ہے جو قانون اسمبلی میں بنا ہے وہ اسمبلی سے ہی سے ختم ہوگاعوامی رائے ہموار کریں گے،اگر اب اسمبلی نے پی ایس ڈی پی پر ہاتھ صاف کیا تو آئندہ انکا راستہ روکنے کے لئے عوام کی عدالت میں جاکر اس کی طاقت کے ذریعے راستہ روکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں