پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہارخان ودان، سینئر نائب صدروضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا،صوبائی نائب صدر مجید خان اچکزئی،صوبائی نائب صدر محترمہ وڑانگہ لونی، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان اور دیگرصوبائی ایگزیکٹیوز نے اپنے مشترکہ بیان میں مسلط حکومت کی جانب سے کوئٹہ کے علاقہ ہزار گنجی میں تجارتی مراکزپر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ زروزور کی حکومت معاشی قتل عام پر مبنی اقدامات کے ذریعے عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہے ۔گزشتہ شب ہزار گنجی کے مختلف علاقوں میں بھاری فورسز کے ہمراہ مارکیٹوں ، گوداموں ، دوکانوں پر چھاپے مارنے، تاجروں ، مزدوروںپر سٹیٹ فائرنگ کرنے، کرورڑوں روپے کے مال کو ضبط کرنا دراصل پہلے سے تباہ حال معاشی صورتحال کو مزید تباہ کرکے عوام کو ذہنی کوفت کاشکار بنانا اور دو وقت کی روٹی کا محتاج بنانا ہے ۔اس سے پہلے بھی نیو اڈہ، منی مارکیٹ، بڑیچ مارکیٹ، ڈبل روڈ، زرغون روڈ، کاسی روڈاور دیگر علاقوں میں چھاپوں کے ذریعے مال ضبط کیا گیا اور ٹیکس شدہ سامان کو ضبط کرنے پر تاجروں نے احتجاج بھی کیا تھا۔کراچی ،لاہور ، فیصل آبادملک کے مختلف شہروں سے انسانی زندگی کی اشیاء خوراک وضروریات ودیگر سامان شاہراہوں پر ایف سی ، کسٹم ، ایکسائز ، پولیس کی لوٹ مار کے بعد کوئٹہ ہزار گنجی پہنچ جاتا ہے اور پھرکوئٹہ شہر اور صوبے کے دیگر اضلاع میںاسے پہنچایا جاتا ہے ۔اگر چہ یہ سامان غیر قانونی ہے تو حکومت اسے باڈر ایریاز اور شاہراہوں پر موجود سینکڑوں چیک پوسٹوں ، ناکوں پر کیوں نہیں روکتی ۔ تمام شاہراہوں پر کرپشن وکمیشن کے بعد گوداموں ، مارکیٹوں پر چھاپے مار کر اسے غیر قانونی مال قرار دینا اور ضبط کرنا دراصل کرپشن وکمیشن کو جاری رکھنا اور تاجروں کو تجارت سے بیزار کرنے کے مترادف ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ باڈر ٹریڈ کی بندش نے تمام صوبے بالخصوص پشتون اضلاع کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا اور ہزاروںخاندانوں کو نان شبینہ کا محتاج بنایا گیاہے اور لاکھوں نوجوان بیروزگاری سے دوچار ہیں۔صوبے میں کوئی صنعتی زون نہیں اور نہ ہی بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں نوجوان مزدوری کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرسکے۔ پیٹرول پمپس بند کردیئے گئے، زرنج رکشوں پر پابندی عائد کردی گئی ، گاڑیوںکو شورومز پر چھاپے مارے جارہے ہیں، شہر بھر میں ٹریفک پولیس کی لوٹ مار جاری ہے ،تجاوزات کے نام پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ ، ضلعی انتظامیہ، اور ٹریفک پولیس تاجروں، دکانداروں ،ریڑھی بانوں اور شہریوں کو تنگ وہراساں کرنے، مال ضبط کرنے، تھانوں میں بند کرنے، رشوت کے عیوض دوبارہ چھوڑنے، ان کی تضحیک وتذلیل کرنے، عزت نفس مجروح کرنے جیسے ناروااقدامات کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح کم عمر بچوں ، نوجوانوں کو شناختی کارڈ ہونے کے باوجود اُٹھا کر مختلف پولیس تھانوں اور ڈپٹی کمشنر دفتر لایا جاتا ہے اثر رسوخ والوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور غریب ، لاچار بچوں ، نوجوانوں اور ان کے گھروالوں سے رشوت طلب کی جاتی ہے اور نہ دینے پر انہیں مہاجر قرار دیکر باڈر پاس کیا جاتا ہے یا پھر پولیس تھانے میں بند کردیا جاتا ہے ۔ بیان میں کہا گیاہے کہ حکومت کااصل مقصد عوام سے حلال روزی کے ذرائع چھین کر انہیں چوری ، ڈکیتی ، بدامنی کی جانب دھکیلنا ہے اور کوئٹہ شہر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی صورتحال کی ذمہ دار حکومت ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہزار گنجی اور کوئٹہ کے تمام تجارتی علاقوں سے ضبط شدہ سامان /مال کو فوری طورپر واپس کرکے تاجروں کے کرورڑوں روپے کے نقصانات کافوری طورپر ازالہ کیاجائے اور حکومت اور تمام فورسز جو غیر قانونی چھاپوںمیں ملوث ہیںاس کا فوری تدارک کیا جائے اور اس تمام صورتحال کا نوٹس لینا وزیر اعلیٰ ، گورنر ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پولیس اور آئی جی ایف سی کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
14









