حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کیلیے 3.7 فیصد معاشی شرحِ نموکی منظوری دیدی ہے۔ یہ منظوری نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے دی،جس کی صدارت سیکریٹری پلاننگ اویس منظورسمرانے کی۔
اعدادو شمارکے مطابق معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں نموریکارڈکی گئی،جو حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث زرعی شعبے کو پہنچنے والے شدید نقصانات سے متعلق حکومتی رپورٹس کے برعکس ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مجموعی قدرِ افزائش 3.71 فیصد رہی، بجلی وگیس کے شعبے میں 25 فیصدسے زائد،تعمیراتی شعبے میں 21 فیصدسے زیادہ،جبکہ چاول کی پیداوارمیں بھی غیر متوقع اضافہ دیکھاگیا۔
تفصیلات کے مطابق کاشت کے رقبے میں 3.6 فیصدکمی کے باوجود چاول کی پیداوار 2.5 فیصد بڑھ کر تقریباًایک کروڑ ٹن تک پہنچ گئی،جبکہ وزارتِ منصوبہ بندی نے سیلاب کے بعد یہ پیداوار 83 سے 89 لاکھ ٹن کے درمیان رہنے کاتخمینہ دیا تھا،جو آئی ایم ایف کو بھی فراہم کیاگیاتھا۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 744 ارب روپے کے براہِ راست و بالواسطہ نقصانات ہوئے،جن کابڑاحصہ زرعی شعبے کو برداشت کرنا پڑا۔
حکومت نے رواں مالی سال کیلیے ابتدائی طور پر 4.2 فیصد معاشی نموکاہدف مقررکیاتھا،جسے سیلاب کے بعدکم کرکے 3.5 فیصدکردیاگیا، تاہم NAC نے جولائی تاستمبر سہ ماہی کیلیے زراعت میں 2.9 فیصد،صنعت میں 9.4 فیصد اورخدمات کے شعبے میں 2.4 فیصد نموکی منظوری دی ہے۔









