36

2025; دنیا بھر کی اہم جنگوں اور تنازعات میں کتنے لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے؟

حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں شدید اور دور رس تنازعات کا ایک ایسا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے جو کئی دہائیوں میں پہلی بار اس پیمانے پر سامنے آیا ہے۔

2025 میں یوکرین، غزہ اور سوڈان کی جنگیں اپنے تیسرے یا چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ اب تک ہونے والی امن بات چیت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مشرقی جمہوریہ کانگو (DRC) میں لڑائی میں شدت آئی، مئی میں ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی، اور مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر بحران میں نمایاں توسیع دیکھنے میں آئی۔

ان تنازعات کے سب سے بڑے اثرات انسانی جانوں کے ضیاع، اذیت اور تباہی کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ 2020 کی دہائی میں اب تک لاکھوں افراد براہِ راست جنگوں میں مارے جا چکے ہیں؛ جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ زخمی، بے گھر، یتیم، بھوکے، تشدد کا شکار اور ذہنی صدمات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ شدید تباہی کے باعث بعض خطے شاید کبھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکیں۔

کئی ممالک اپنی فوجی سرمایہ کاری اور صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ان جنگوں کے اثرات عالمی سطح پر سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دے رہے ہیں۔ تاہم، دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سفارتی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

روس-یوکرین جنگ

روس اور یوکرین کی جنگ، خاص طور پر فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد، دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی جنگ بن چکی ہے۔ دونوں جانب ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار واضح نہیں، تاہم مغربی ذرائع کے مطابق 2022 سے اب تک تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد براہِ راست اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

ان اندازوں کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار روسی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ شہری ہلاکتیں چند سو کے قریب ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی فوجی ہلاکتیں تقریباً 1 لاکھ کے قریب ہیں، جبکہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 15 ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ مجموعی جانی نقصان (یعنی ہلاکتیں، زخمی، لاپتہ یا قیدی) روس کی جانب تقریباً 10 لاکھ اور یوکرین کی جانب تقریباً 5 لاکھ کے قریب ہے۔

اس کے علاوہ، 50 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری دیگر ممالک میں بطور مہاجر رہ رہے ہیں، جبکہ 2025 کے آغاز تک تقریباً 40 لاکھ افراد اندرونِ ملک بے گھر تھے۔ 2025 کے وسط تک روس یوکرین کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقے کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے۔ یوکرین کو ہونے والا معاشی نقصان تقریباً 590 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو جنگ سے قبل یوکرین کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) سے تین گنا زیادہ ہے۔

2023 میں تعطل کے بعد، روس نے 2024 اور 2025 میں بتدریج علاقائی پیش رفت کی۔ اگست 2024 میں یوکرین نے روس کے کرسک خطے میں اچانک حملہ کیا اور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں تقریباً 1,000 مربع کلومیٹر علاقہ حاصل کر لیا، تاہم دسمبر تک اس کا نصف سے زائد علاقہ واپس لے لیا گیا اور 2025 کے وسط تک یوکرین کے پاس صرف ایک چھوٹا سا حصہ باقی ہے۔

یہ حملہ جزوی طور پر روسی افواج کو یوکرین کے اہم محاذوں سے ہٹانے اور جوابی کارروائی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم روس نے دیگر علاقوں سے کمک بلا کر اور شمالی کوریا کی زمینی افواج کی مدد سے اس حملے کو پسپا کر دیا۔

2025 کا آغاز یوکرین کے لیے شدید غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہوا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہو گئے، جو یوکرین کی حمایت پر اکثر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کی یوکرین کے لیے عوامی حمایت اور صدر زیلنسکی کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا، خاص طور پر فروری میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک براہِ راست نشریاتی ملاقات کے دوران، جب ٹرمپ اور نائب صدر وینس نے زیلنسکی پر کھلے عام سخت تنقید کی، جبکہ فوجی امداد کی ترسیل میں بھی تاخیر ہوئی۔

اس کے باوجود، امریکہ بدستور یوکرین کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی ہے اور اپریل میں طے پانے والے ایک طویل المدتی معدنیات اور وسائل کے معاہدے سے فائدہ اٹھانے جا رہا ہے۔ دیگر مغربی ممالک نے بھی فوجی امداد میں اضافہ کیا ہے، اور وقت کے ساتھ کئی ممالک نے یوکرین کو روس کے اندر اہداف پر حملے کے لیے ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

2025 میں دونوں فریقین نے میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ کیا، اور جنگ کے سب سے بڑے ڈرون حملے 2025 کے پہلے نصف میں دیکھنے میں آئے۔ یہ شدت ممکنہ طور پر امن مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ 2025 میں امن بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی، جس کے نتیجے میں توانائی کے ڈھانچے اور بحیرہ اسود میں تین ہفتے کی جنگ بندی، اور ایسٹر پر 30 گھنٹے کی جنگ بندی ہوئی، تاہم مستقل امن معاہدے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

اسرائیل-فلسطین

اگست 2025 کے آغاز تک، غزہ پر اسرائیل کے 20 ماہ طویل حملے میں سرکاری اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع کے مطابق 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1,700 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 7 اکتوبر کے حملے میں مارے گئے 1,200 اسرائیلی شامل ہیں۔ تاہم دیگر ذرائع کے مطابق یہ اعداد و شمار مختلف ہیں، اور اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت کم بتائی جا رہی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور بیماری، غذائی قلت اور صحت کے نظام کی تباہی سے ہونے والی اموات کو شمار نہیں کیا گیا۔

غزہ میں تباہی اور امداد کی کمی نے دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک میں انسان ساختہ بدترین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث لوگوں اور امداد دونوں کی نقل و حرکت شدید طور پر محدود ہے۔ حملے کے آغاز سے اب تک غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، اکثر کئی بار۔ تمام آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

70 فیصد سے زائد عمارتیں (اور 92 فیصد رہائشی مکانات) تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ غزہ کے نصف سے زائد اسپتال اور صحت کے مراکز بند ہو چکے ہیں، اور جو فعال ہیں وہ بھی جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے حملہ حماس کو ختم کرنے اور 7 اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے 251 افراد کی رہائی کے مقصد سے شروع کیا تھا۔ جون 2025 کے وسط تک، 50 یرغمالی اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے صرف 23 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج کے تقریباً 425 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے 20 ہزار سے زائد حماس جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

2025 کے آغاز میں دو ماہ کی جنگ بندی ہوئی، جس کے تحت یرغمالیوں کی مرحلہ وار رہائی، ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، امداد میں اضافہ اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شامل تھے، تاہم یہ جنگ بندی پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی اور اسرائیل نے 18 مارچ کو دوبارہ حملے شروع کر دیے۔

جنوری 2025 میں اسرائیل نے UNRWA کو فلسطین میں کام کرنے سے روک دیا، یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ یہ ادارہ حماس کے لیے فرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ فروری سے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے UNRWA کی جگہ لی، تاہم اس پر شدید تنقید ہوئی، کیونکہ مئی اور جون میں امداد حاصل کرنے کے دوران 500 سے زائد فلسطینی مارے گئے۔

یہ تنازع صرف غزہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ مغربی کنارے میں بھی اکتوبر 2023 کے بعد تشدد میں شدید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد آبادکاروں کے تشدد کے باعث ہوئی۔

2023 کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا بحران

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے ایران، لبنان، شام اور یمن کے ساتھ تنازعات میں ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے دوران ہوا، جہاں سرحد پار حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور دونوں جانب لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں