38

سال 2025: سونا سرمایہ کاروں کے لیے منافع، سنار اور عام صارف مہنگائی کی زد میں

سال 2025 کے دوران سونا سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا اور سونے میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے نمایاں منافع حاصل کیا، تاہم سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عام صارف اور سناروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔

رواں برس کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں ریکارڈ دو لاکھ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث زیورات کی خریداری عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی چلی گئی۔ سونے کی بڑھتی ہوئی کشش نے قیمتوں کو مسلسل اوپر کی جانب دھکیلا اور صرف ایک سال میں ایک تولہ سونا دو لاکھ روپے مہنگا ہو گیا۔

کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے صرافہ بازار، جہاں ماضی میں دن رات سونے کے زیورات کی خرید و فروخت جاری رہتی تھی، اب ویرانی کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باعث گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ سنار کاروباری مندی اور بڑھتی مہنگائی کا شکوہ کرتے دکھائی دیے۔

کاروبار ٹھپ ہونے پر کئی سناروں کو روزگار کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔ 60 سالہ کریم، جو برسوں سے سنار کا پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے، اب پیٹ پالنے کے لیے پان بیچنے اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2024 کو فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 72 ہزار 600 روپے تھی، جو دسمبر 2025 میں بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 800 روپے تک پہنچ گئی۔ قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہونے کے بعد لوگوں نے مصنوعی زیورات کا رخ کرنا شروع کر دیا، جس کے باعث خالص سونے کی مانگ میں واضح کمی واقع ہوئی۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں سونا 1 ہزار 698 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا۔ ماہرین کے مطابق آئندہ برس بھی سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

یوں سال 2025 سونے کے سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ثابت ہوا، تاہم سناروں اور عام صارفین کے لیے یہ سال مہنگائی، کاروباری مندی اور معاشی دباؤ کی ایک اور کہانی بن کر سامنے آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں