ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ 50 سال کی عمر کے بعد ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیئم اور وٹامن ڈی نہایت اہم ہو جاتے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کی کمزوری ایک فطری عمل ہے، تاہم مناسب غذاؤں اور متوازن غذا کے ذریعے اس عمل کو سست کیا جا سکتا ہے۔
ٹفٹس یونیورسٹی کی ماہرِ صحت ڈاکٹر بیس ڈاسن ہیوز کے مطابق خواتین میں مینوپاز کے بعد ہر سال تقریباً 3 فیصد ہڈیوں کا وزن کم ہو جاتا ہے، جبکہ مردوں میں بھی 50 سال کے بعد ہڈیوں کی کمزوری کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ کمزور ہڈیاں گرنے کی صورت میں فریکچر کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر کولہے کی ہڈی کا فریکچر، جو 70 اور 80 سال کی عمر میں نمایاں ہو جاتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کی کمی پٹھوں کی کمزوری اور توازن میں خلل پیدا کر سکتی ہے، جس سے گرنے اور فریکچر کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ سپلیمنٹس نقصان دہ ہو سکتے ہیں، زیادہ کیلشیئم گردے کی پتھری کا سبب بن سکتا ہے اور زیادہ وٹامن ڈی لینے سے فریکچر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
قومی طبی اداروں کے مطابق 51 سال سے زائد عمر کی خواتین اور 71 سال سے زائد عمر کے مردوں کو روزانہ تقریباً 1200 ملی گرام کیلشیئم، جبکہ 70 سال سے زائد افراد کو روزانہ 20 مائیکروگرام وٹامن ڈی لینا چاہیے۔ کیلشیئم کے بہترین ذرائع میں دودھ، دہی، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات شامل ہیں، جبکہ وٹامن ڈی کے لیے دھوپ سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور ڈاکٹر کی ہدایت پر سپلیمنٹس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ بھوک میں کمی آ جاتی ہے، اس لیے بزرگ افراد کو اپنی روزمرہ کی غذاؤں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جسم کو ضروری غذائی اجزاء مناسب مقدار میں مل سکیں۔









