52

سڑکیں ندی نالے میں تبدیل پیدل چلنا محال

جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کیمرکزی ترجمان سید عبدالستارشاہ چشتی نے کہا کہ معمولی بارش کے چندقطرے گرتے ہی کوئٹہ شہراس پاس کے تمام علاقوں میں بجلی غائب 15گھنٹے بعد شہرودیگرچندعلاقوں میں بجلی بحال جبکہ دیگربہت سے علاقوں میں چوبیس گھنٹے بندش سے مساجد میں نمازیوں شہر کے تجارتی علاقوں دکانداروں گھروں میں عوم شہریوں کوپانی کی قلت شدیدپریشانی میں مبتلادشواریوں سے دوچارر ہے رات گئے تک کئی گھنٹے گزرجانے کے باوجودشہرکے تجارتی مراکز سمیت تمام علاقے تاریکی میں ڈوبے ہیں دوسری جانب شہربھرمیں نالیاں ابل پڑے نالیوں کے ناپاک پانی بہنے سے عوام کے کپڑے ناپاک ہورہے ہیں اور سڑکوں کی ناقص تعمیر اور ناقص میٹریل کی استعمال حکومتی دعوں کا پول کھول دیا ناقص سیوریج نظام کی باعث نالوں کا پانی سڑکوں پر ابل پڑا، شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں سیوریج نظام پر کروڑں روپے ضائع ہونے کی باوجود گندے پانی سڑکوں پر بہہ رہی ہیں سیوریج لائن کی صفائی کاکوئی انتظام نہیں شہر گندگی کا ڈھیر اور گلیوں و بازاروں میں سیوریج کا پانی جوہڑ کی شکل میں کھڑا ہوا ہے۔

نکاسی آب کے لئے بنائے گئے برساتی نالوں پر رکھے گئے سلیب ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے حادثات معمول بن گیا انہوں نے کہا کہ محکموں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے عوام شدید مشکلات سے دوچار کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے اکثر سڑکیں ندی نالے میں تبدیل ہو گئے جس کے باعث سڑکوں پر پیدل چلنا محال ہو گیا۔ غیر معیاری اور ناقص کاموں سے اربوں کے فنڈز ضائع ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں اور ٹھیکوں میں کرپشن کے باعث کوئٹہ تباہی کا شکار ہے۔

اربوں روپے کے منصوبوں میں کروڑوں کی کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بہت سی جگہوں پر پرانی روڑ کے پتھر کو اٹھا کر بیلنس ہی نہیں کیا گیا بلکہ اسی کے اوپر پتھر ڈال کر سڑک کو دو سے تین فٹ اونچا کر دیا گیا ہے شھرناپرسان اچھے بنے سڑکوں کواکھاڑکرکے دوبارہ تعمیراتی کام شروع کرنے اربوں کے خزانہ کوضائع کیاجارہاہے کوئلہ پھاٹک پرقائم چورنگی جس پرگذشتہ سال بڑی فنڈزکوخرج کیاگیاہے اب گذشتہ روزاسے اکھاڑدیاگیا ہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں