بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات 29 مئی 2022ء کو منعقد ہوئے تھے، جن میں کوئٹہ اور لسبیلہ کے انتخابات مختلف وجوہات کے باعث مؤخر کر دیے گئے تھے۔ قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال ہے، یعنی ان اداروں کی آئینی مدت مئی 2026ء تک مکمل ہوتی ہے اب جبکہ اس مدت کے اختتام میں صرف سات ماہ باقی رہ گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے حکم پر صرف کوئٹہ میں الیکشن کرانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے یہ فیصلہ عوام میں کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہےکیا صرف سات ماہ کی مدت کے لیے نئے نمائندے منتخب کرنا دانشمندی ہے؟کیا اتنے بڑے پیمانے پر انتخابی عمل، سرکاری مشینری، وسائل اور کروڑوں روپے صرف چند ماہ کی نمائندگی کے لیے خرچ کرنا کوئی سمجھ داری کی بات ہے؟کیا قانون ایک ہی صوبے کے مختلف اضلاع پر مختلف انداز میں لاگو ہوگا؟یا کوئٹہ کے لیے کوئی الگ قانون بنایا جا چکا ہے؟یہ سب کچھ دیکھ کر عوام کے ذہنوں میں فطری طور پر یہ خیال گونجتا ہے کہ جب قانون کے محافظ خود غیر متوازن فیصلے کریں، جب ایک طرف پورے صوبے کے بلدیاتی ادارے اپنی مدت پوری کر رہے ہوں اور دوسری طرف صرف ایک شہر میں چند ماہ کے لیے نیا نظام کھڑا کیا جا رہا ہو تو عوام کیسے یقین کریں کہ یہ سب انصاف اور عقل کے مطابق ہو رہا ہے؟عوامی حلقوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالت عالیہ سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں، آئینی مدت کے اختتام پر بیک وقت کرائے جائیں
53









