نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران ملک کی دو بڑی پاور کمپنیوں — میپکو اور گیپکو — نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین پر اضافی چارجز عائد کرنے کی تجویز دے دی۔ کمپنیوں کا کہنا تھا کہ سولر صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ان کی آمدنی میں نمایاں کمی آرہی ہے کیونکہ یہ صارفین نیشنل گرڈ سے کم بجلی خریدتے ہیں اور اضافی بجلی بیچ کر فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے پاور کمپنیوں نے تجویز پیش کی کہ نیٹ میٹرنگ صارفین سے بھی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن اخراجات کی مد میں فکسڈ فیس وصول کی جائے۔ ذرائع کے مطابق، وزارتِ توانائی نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے تاکہ کمپنیوں کو نظامی اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہنگی بجلی کے باعث صارفین بڑی تعداد میں سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل حکومت نے نیٹ میٹرنگ کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی تجویز دی تھی، مگر وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی دباؤ کے بعد اسے مسترد کر دیا۔ سماعت کے دوران نیپرا نے گیپکو کی غیر قانونی ایڈوانسڈ میٹرنگ انسٹالیشنز اور سولر صارفین کو ادائیگیوں میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ دوسری جانب، میپکو نے 2024-25 میں 100 فیصد ریکوری ٹارگٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومت کی حالیہ پالیسی کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو رعایتی نرخ فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ سولر کی جانب تیزی سے بڑھتے رجحان کو روکا جا سکے اور نیشنل گرڈ کی طلب میں اضافہ کیا جا سکے۔









