برطانوی پارلیمنٹ نے ڈی پرائیویشن آف سٹیزن شپ آرڈرز ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت دہشت گردی اور سنگین جرائم سے منسلک افراد کو فوری طور پر برطانوی شہریت واپس نہیں مل سکے گی۔
یہ قانون 27 اکتوبر کو شاہی منظوری حاصل کرنے کے بعد نافذالعمل ہو گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق، کسی شخص کی شہریت ابتدائی اپیل جیتنے پر بحال نہیں ہوگی بلکہ تمام اپیلوں کے مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس دوران حکومت کو قومی سلامتی کے پیش نظر کسی مشتبہ فرد کو امیگریشن حراست سے رہا کرنے یا ملک میں داخلے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
قانون میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ کوئی شخص اپنی دیگر قومیتیں ترک کر کے صرف برطانوی شہری ظاہر نہیں ہو سکتا، تاکہ وہ دوبارہ شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی قانونی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
سیکیورٹی منسٹر ڈین جیرس نے کہا کہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لے گا۔ “یہ قانون واضح پیغام دیتا ہے کہ دہشت گردی یا منظم جرائم میں ملوث افراد کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔”
حکومت کے مطابق، نیا قانون کسی کے قانونی اپیل کے حق کو ختم نہیں کرتا بلکہ صرف اس وقت تک فیصلہ مؤخر کرتا ہے جب تک تمام عدالتی مراحل مکمل نہ ہو جائیں — بالکل اسی طرح جیسے انسانی حقوق اور پناہ گزینی کے کیسز میں کیا جاتا ہے۔









