الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سول ہسپتال کوئٹہ کے زیر اہتمام سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری، کنٹریکٹ پالیسی، ناقص اے آئی سسٹم کے خلاف احتجاج اور کرپشن کے خلاف احتجاجی ریلی سول ہسپتال سے نکالی گئی پرنس روڈ اور انسکمب روڈ سے گزرتی ہوئی دوبارہ سول ہسپتال پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکا نے شدید نعرے بازی کی۔
اس موقع پر صدر الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن صوبائی سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کسی صورت قابل قبول نہیں۔ صحت کے شعبے میں لایا گیا ناقص اے آئی سسٹم جس کے ذریعے پروفیسروز، ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹ اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو غیر حاضر ظاہر کر کے جو تذلیل کی جا رہی ہے، وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بندش کے احکامات صادر کیے جاتے ہیں، اور دوسری طرف ناقص اے آئی حاضری سسٹم نافذ کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں، جس کے باعث ملازمین کو ذلیل و خوار ہونا پڑ رہا ہے۔اگر AI کے مطابق ہزاروں ڈاکٹرز، پروفیسرز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز وباقی عملہ غیر حاضر ہے تو پھر ماہ اکتوبر میں1: ایک لاکھ چوبیس ہزار تین سو پچاس124350 اوپی ڈیز2: دوہزارچھ سو باسٹھ2662ایڈمیشنز3:سات سو پچاس750 میجر اپریشنز4:تین سو تیرہ 313مائنر اپریشنز5:تین سوپچیس325 گائنی اپریشنز6:دو ہزار اونچاس2049نارمل ڈیلیوریز7:ایک سو ساٹھ 160اینجیوگرافیز8:سولہ ہزارچھ سو اڑتھالیس16648 لیب ٹیسٹس9:آٹھ ہزار نو سوایک8901الٹراساونڈز10:چارسو اناسی479سٹی اسکین11:پانچ ہزار نوسو ونتر5969ایکسریز12:آٹھ سو پانچ805ڈائیلاسز13:آٹھ سو بہتر872ای سی جیز14:دس10ای ٹی ٹیز15:تین سو تینتیس333ایکوزاور16:دو سو چورانوی294ایم آر آئی ہوئے ہے تو ہم منسٹر ہیلتھ اور حکام بالا سے پوچھنا چاہتے ہے کہ جب ہزاروں ملازمین غیر حاضر تھے تو سول ہسپتال کوئٹہ میں درجہ بالا مریضوں کا علاج معالجہ اور داخلہ وغیرہ کس نے کیا تھا صدر جمال شاہ کاکڑ نیکہاکہ الائیڈ ہیلتھ ارگنائزیشن محکمہ صحت میں کرپشن، محکمے میں جاری بدعنوانی، سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اورسرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں الائیڈ ہیلتھ ارگنائزیشن صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سول ہسپتال کوئٹہ میں سرجیکل اور میڈیکل ٹاورز فی الفور تعمیر کئے جائے تاکہ عوام کو صحت کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوسکیاور آخر میں الائیڈ ہیلتھ ارگنائزیشن صوبائی سنڈیمن ہسپتال کے صدر جمال شاہ کاکڑ نے صوبائی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الائیڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے توآلائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن محکمہ صحت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گااور اس احتجاج کو پورے صوبے تک پھیل دیاجائے گا۔
جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور صوبائی وزیر صحت پر عائد ہوگی









