51

اے آئی ماڈل کا استعمال کرنے والے برانڈ پر تنقید

حال ہی میں پاکستان کی نامور کپڑوں کی برانڈ نے اپنی کیمپین میں اے آئی ماڈل کا استعمال کیا تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے برانڈ کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کچھ صارفین نے برانڈ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کاسٹ کٹنگ‘ کی وجہ سے اٹھایا گیا قدم تصور کیا تو کچھ اس نئی تبدیلی میں انسانی احساسات کے متلاشی نظر آئے۔

کچھ صارفین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیاکہ اے آئی ماڈل کے ذریعے برانڈ نے اپنا خرچہ بچایا ہے تو کیا کپڑوں کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے گی؟

جیو ڈیجیٹل نے فیشن انڈسٹری کی نامور شخصیات سے جب اس تجربے سے متعلق سوالات کئے تو اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آئیں۔

2023 میں پہلی بار پاکستان کی جانب سے مس یونیورس مقابلوں میں جانے والی ماڈل ایریکا رابن نے جیو ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہیں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بذریعہ ڈی ایم موصول ہونے والے پیغامات کے ذریعے اے آئی ماڈل کے ساتھ کئے جانے والے کیمپین شوٹ کا پتہ چلا۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگوں نے مجھے انباکس میں اس کیمپین کی تصاویر بھیجیں۔ مجھے لگتا ہے کہ کہ اگر اے آئی کو بحیثیت ٹول فیشن انڈسٹری میں استعمال کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن جو کام انسانی ماڈل کا ہے وہ شاید انسان ہی بہتر طور پر کرسکتا ہے’۔

ایریکا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک انسانی ماڈل اپنا کام کرنا جانتا ہے لہذا اسے بار بار سمجھانے کی ضرورت نہیں، اس کے برعکس اے آئی ماڈل کو ہر ایک ایکشن پرامٹ کے ذریعے سمجھانے کی ضرورت پڑے گی، اس لحاظ سے انسانی ماڈل کے ساتھ کام کرنا زیادہ آسان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں