34

بلوچستان میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور خوشحالی کے اشاریوں کا تعین” کے موضوع پر ایک اہم پینل ڈسکشن منعقد ہوا

) کیچ کلچرل فیسٹیول کے دوسرے روز علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں نے شرکا کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ فیسٹیول کا ہر گوشہ تحقیق، تخلیق، جدت اور تفریح کی جھلک پیش کر رہا تھا۔کیچ کلچرل فیسٹیول کے دوسرے روز مختلف سیگمنٹس پیش کئے گئے، جن میں ثقافت، تعلیم اورنوجوانوں کی ترقی، کیچ و مکران کا آثارِ قدیمہ کا منظرنامہ، انٹرپرینیورشپ، بزنس پروپوزل پلان، شام ِ غزل، مالد، شے پرجا ودیگر سگمنٹس شامل تھے۔

دوسرے روز کے پہلے سیشن میں ”ثقافت، تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی: بلوچستان میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور خوشحالی کے اشاریوں کا تعین” کے موضوع پر ایک اہم پینل ڈسکشن منعقد ہوا جس میں نامور سائنٹسٹ ڈاکٹر پرویز ہودبھائی، سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، پی ایف یو جے کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید شامل تھے، نشست کی نظامت سینئر صحافی مقبول ناصر نے کی۔

نامور سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مثالی تعلیم وہ ہے جو سوال کرنے کی جستجو پیدا کرے اور سوچ کے نئے دریچے کھولے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے تاہم جدید سائنسی ذخیرہ انگریزی زبان میں دستیاب ہے، اس لیے نوجوانوں کو دونوں زبانوں پر عبور حاصل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ سائنس اور مذہب کو خلط ملط کرنا درست نہیں۔

مذہب انسان کو اخلاقیات اور اقدار سکھاتا ہے جبکہ سائنس تحقیق، تخلیق اور جدت کا نام ہے۔سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کو تاریخی فیسٹیول کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، انہوں نے ادب کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستر کی دہائی میں بلوچی ادب نے عروج پایا، اس دور کی ادبی و سیاسی شخصیات نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ 2013 میں بطور وزیراعلی انہوں نے سات مادری زبانوں بلوچی، براہوی، پشتو، ہزارگی سمیت دیگر زبانوں کو اسکولوں میں پڑھانے کی منظوری دی گئی تاکہ نئی نسل اپنی زبان و ثقافت سے جڑی رہ سکے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ آج کی صحافت میڈیا مالکان کے مفادات کی اسیر ہوچکی ہے، آزادیِ صحافت اب صحافیوں کے بجائے میڈیا مالکان کے ہاتھوں میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیمیں کمزور ہوگئی ہیں اور مصلحت پسندی کا شکار ہیں۔کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید نے کہا کہ قومی میڈیا اپنی ترجیحات رکھتا ہے جبکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا فلٹرز کے ذریعے صحافتی معیار کو یقینی بناتے تھے۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ قدریں مفقود ہیں، جہاں لائیکس اور ویوز کی دوڑ میں منفی اور غیر سنجیدہ مواد کو فروغ دیا جارہا ہے۔

دوسرے روز کے دوسرے سیشن میں ”کیچ و مکران کا آثارِ قدیمہ کا منظرنامہ: خدمات، چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل” کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں نامور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیچ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہاں انسانی بودوباش کے نقوش صدیوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک چار اہم آثارِ قدیمہ کی کھدائیاں کی جا چکی ہیں جن میں جرمن اور فرانسیسی ماہرین بھی شریک رہے۔

ڈاکٹر لاشاری نے زور دیا کہ ماضی کی نوادرات کو محفوظ بنانے اور ان پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کالونیل ماضی کی سوچ سے نکل کر اپنی سرزمین کے ورثے کو خود دریافت اور محفوظ کرنا ہوگا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت اور ادارے آرکیالوجی کے شعبے میں ریسرچ گرانٹس اور اسکالرشپس میں اضافہ کریں تاکہ مقامی محققین اس کام کو آگے بڑھا سکیں۔

نشست کی نظامت کیچ کلچر سینٹر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایاز ہاشم بزنجو نے کی۔فیسٹیول کے دوسرے روز تیسرے سیشن میں انٹرپرینیورشپ اور بزنس پروپوزل مقابلہ بھی توجہ کا مرکز رہا۔ پروگرام کی میزبانی یونیورسٹی آف تربت کی پروفیسر ثمینہ فقیر نے کی جبکہ ججز کے فرائض بلوچستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حاجی فدا حسین دشتی اور یونیورسٹی آف تربت کے ڈاکٹر غلام جان نے انجام دئیے۔

طلبہ و طالبات نے 12بزنس پلان پیش کیے جن میں جدید کاروباری نظریات اور تخلیقی حل شامل تھے۔ مقابلے میں ورک ان پروجیکٹ نے پہلی پوزیشن، سرپلس فوڈ نے دوسری جبکہ مچ کلیٹ پلان نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ حاضرین نے طلبہ کی پیشکشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔فیسٹیول کا ایک نمایاں حصہ دو نئی کتب کی تقریب رونمائی تھی۔ معروف محقق ڈاکٹر فقیر شاد کی تصنیف میراث اور نوجوان شاعرہ زارا التاز سخی کی انگریزی شاعری کی پہلی کتاب ECHOES متعارف کرائی گئیں۔

تقریب میں ممتاز دانشور ڈاکٹر پرویز ہودبائی اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد نے ”میراث” کو بلوچ تاریخ و تہذیب کا ایسا شعری شاہکار قرار دیا جو فردوسی کے ”شاہنامہ” کے ہم پلہ ہے۔ ان کے بقول یہ کتاب ہر بلوچ گھر اور لائبریری میں ہونی چاہیے کیونکہ اس میں ثقافت، روایات اور تمدن کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔

زارا التاز سخی نے اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنے تخلیقی سفر اور شاعری کے محرکات بیان کیے۔فیسٹیول کے دوسرے دن تفریحی رنگ بھی نمایاں رہا۔ حفیظ لال عرف شوکو اور ان کی ٹیم نے مزاحیہ ڈرامہ پیش کیا جس پر ہزاروں ناظرین قہقہے لگانے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے بعد معروف قصہ گو صلاح الدین بیوس نے بلوچی کلاسیکی قصے اپنے مخصوص دلکش انداز میں سنائے، جنہیں سامعین نے بے پناہ پسند کیا۔

فیسٹیول میں مالد اورشے پرجا بھی پیش کئے گئے۔پینل ڈسکشن کے بعد فیسٹیول میں ”شامِ غزل” کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی معروف صحافی و کمپیئر طارق مسعود نے کی۔ اس محفل میں نصیب مزار، شوکت مراد، پہلوان عظیم بلوچ اور دیگر شعرا نے خوش الحانی کے ساتھ کلاسیکی شاعری پیش کی، جس پر سامعین عش عش کر اٹھے۔تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اور سبوخ سید کو معروف آرٹسٹ حسن زیب کی تیار کردہ برن آرٹ پینٹنگز بطور تحفہ پیش کیں۔

کیچ کلچرل فیسٹیول کے دوسرے دن کا اختتام علم و ادب کی سنجیدہ محفلوں اور ثقافتی تفریح کے حسین امتزاج کے ساتھ ہوا۔ آثارِ قدیمہ پر علمی گفتگو، نوجوانوں کے کاروباری آئیڈیاز، نئی کتابوں کی رونمائی اور تفریحی پروگراموں نے اس دن کو یادگار بنا دیا۔ تربت کی سرزمین نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہاں نہ صرف ماضی کی تاریخ زندہ ہے بلکہ مستقبل کی نئی راہیں بھی روشن ہو رہی ہیں۔فیسٹیول میں دوسرے روزبھی دن بھر کتابوں، کلچرل اورکھانے پینے کے اسٹالز پر انتہائی رش رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں