115

پاکستان۔ افغانستان پراکسی وار: کیسے اور کیوں شروع ہوئی؟

پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے تعلقات کبھی دوستانہ اعتبار سے مستحکم نہیں ہو سکے، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان بداعتمادی اور شکوک و شبہات کم ہونے کی بجائے بڑھتے رہتے ہیں تاہم اکثر یہ بیانیہ سننے کو ملتا ہے کہ افغانستان کو غیر مستحکم رکھنے میں پاکستان کا ہاتھ رہا ہے۔

یہاں تک کہ آج جب فتنہ الخوارج افغان سرزمین سے پاکستان میں آ کر حملے کر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے، کسی بھی قسم کے جذباتی تجزیے سے نکل کر اس ساری صورتحال کے حوالے سے ایک موازنہ کر کے دیکھ لیتے ہیں کہ دونوں ممالک میں سے کس نے کس کے ملک میں کب کب مداخلت کی۔

افغانستان میں اقتدار کی جنگ کا آغاز اُس وقت ہوا جب 1928 میں بادشاہ امان اللہ خان کے خلاف بغاوت ہوئی اور نادر شاہ نے تخت سنبھال لیا، مگر 1933 میں نادر شاہ کو قتل کر دیا گیا اور بارہ سالہ ظاہر شاہ کو بادشاہ بنایا گیا، یعنی اس وقت پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا لیکن افغانستان میں اقتدار کے لئے خونریزی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

سن1947 میں برصغیر کی تقسیم کے دوران افغانستان نے برطانوی حکومت کو ایک نوٹ بھیجا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) دراصل افغانستان کا حصہ ہے، افغانستان چاہتا تھا کہ اسے یا تو آزاد ریاست بنایا جائے یا افغانستان میں شامل کیا جائے، مگر یہ مطالبہ مسترد ہوا اور صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کرایا گیا جہاں عوام نے واضح اکثریت سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، اس کے بعد افغانستان نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی مخالفت کی، لیکن ناکام رہا۔

سن 1953 میں ظاہر شاہ نے اپنے کزن داؤد خان کو وزیراعظم بنایا، داؤد خان نے پاکستان کے خلاف مسلسل سازشیں کیں، مارچ 1955 میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے اور جلال آباد و قندھار میں قونصل خانوں پر حملے کرائے گئے، باربار مداخلت کے باعث 1961 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے، جو 1963 میں شاہ ایران کی ثالثی سے بحال ہوئے۔

سن 1973 میں وہی داؤد خان، جسے ظاہر شاہ نے وزیراعظم بنایا تھا، فوجی افسروں کے ساتھ مل کر ظاہر شاہ کی بادشاہت ختم کر کے افغانستان کا پہلا جمہوری صدر بن گیا، اس دور میں بھارت کی مدد سے انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی، پاکستان میں کئی حملے ہوئے، حتیٰ کہ فروری 1975 میں خیبر پختونخوا کے گورنر حیات محمد خان شیرپاؤ دہشت گردی میں شہید ہوگئے، ان واقعات نے پاکستان کو دفاعی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کیا۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کی توسیع پسندانہ پالیسی کا جواب دینے کیلئے افغانستان میں اسلامی تحریکوں کی حمایت شروع کی تاکہ افغان عزائم کا مقابلہ افغانستان کے اندر سے ہی کیا جائے، لیکن دونوں فریقین کی ایک دوسرے کے ملک میں مداخلت سے بداعتمادی کی ایسی فضا بنی کہ جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جاتے ہیں۔

اپریل 1978 میں افغانستان میں انقلاب آیا اور داؤد خان کو ان کے خاندان سمیت قتل کر دیا گیا، اقتدار پر کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے نے قبضہ کیا، پہلے نور محمد ترہ کئی صدر بنے مگر جلد ہی حفیظ اللہ امین نے انہیں قتل کرا کے خود اقتدار سنبھال لیا، دسمبر 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا اور امین کو بھی قتل کر دیا گیا، 1980 میں ببرک کارمل سوویت مدد سے صدر بنے، مگر افغانستان کے مجاہدین نے سخت مزاحمت شروع کر دی، اس وقت امریکا نے مجاہدین کو مدد فراہم کی اور پاکستان نے بھی روسی توسیع پسندی کو روکنے کیلئے ان کی حمایت کی، آخرکار 1989 میں سوویت فوج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

سوویت انخلا کے بعد مجاہدین کے مختلف گروہوں میں اقتدار کی جنگ شروع ہوئی، 1993 میں برہان الدین ربانی صدر بنے مگر خانہ جنگی جاری رہی، ستمبر 1996 میں طالبان کابل پر قابض ہوگئے، 1997 میں پاکستان طالبان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا، اس اقدام نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ پاکستان طالبان کی پشت پناہی کرتا ہے۔

اکتوبر 2001 میں امریکا نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تاکہ القاعدہ اور طالبان کو ختم کیا جا سکے، لیکن تقریباً 20 سال کی طویل جنگ، 822 ارب ڈالر کے اخراجات اور 2300 امریکی فوجیوں کی اموات کے باوجود امریکا اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا اور بالآخر پسپائی اختیار کی، اس وقت بھی پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ امریکی ناکامی کا ذمہ دار ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر یہ امید کی گئی تھی کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں گے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے اور “فتنہ الخوارج” اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان سے آ کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں، یہ رویہ افغانستان کے حکمران طبقے کے اسی پرانے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کا راستہ کیا ہے؟ بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ ختم کریں اور امن قائم کرنے کی کوشش کریں، لیکن اگر افغانستان کی حکومت بھارت یا دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی پرانی پالیسی اپناتی ہے تو پاکستان بھی ویسا ہی جواب دینے کا حق رکھتا ہے جیسا ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دشمنی سے دونوں کو نقصان ہوا ہے، فائدہ کسی کو نہیں ملا۔

لہٰذا دونوں ممالک کو چاہیے کہ ماضی کے سبق کو یاد رکھتے ہوئے نیک نیتی اور تدبر سے آگے بڑھیں، باہمی تعاون، اعتماد سازی اور اقتصادی و سماجی شراکت داری ہی اس خطے کے امن و استحکام کی ضمانت ہیں، بصورتِ دیگر یہ تنازعہ ایک ایسے چکر کی مانند جاری رہے گا جو کبھی کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں