یہ بالکل درست ہے کہ حالیہ “40 منٹ کی وائرل ویڈیو” کا ٹرینڈ ایک جعلی کلک بیٹ ہے۔ ماہرین سائبر سیکیورٹی اس بارے میں سخت وارننگ دے رہے ہیں کیونکہ اس میں کئی خطرات چھپے ہیں:
ذاتی معلومات کا چوری ہونا: ایسے لنکس پر کلک کرنے سے آپ کی لاگ ان تفصیلات، پاسورڈز یا مالی معلومات چوری ہو سکتی ہیں۔
مالویئر اور وائرس: جعلی ویب سائٹس پر کلک کرنے سے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل میں مالویئر انسٹال ہو سکتا ہے، جو ڈیٹا نقصان یا ڈیوائس ہیکنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
قانونی مسائل: بعض جعلی یا لیک ہونے کا دعویٰ کرنے والی ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی جاتی ہیں، اور ان کو دیکھنے، شیئر کرنے یا محفوظ کرنے پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اشتہاری فراڈ: اکثر یہ ویب پیجز اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں اور صارفین کے براؤزر کو ہینگ کر کے پیسہ کماتے ہیں۔
ماہرین کی ہدایت:
ایسی ویڈیوز کے لنکس پر کبھی کلک نہ کریں۔
سرچ کرتے وقت صرف معتبر ویب سائٹس یا آفیشل ذرائع کا استعمال کریں۔
اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے اینٹی وائرس اور اینٹی مالویئر اپڈیٹ رکھیں۔
مشکوک لنکس کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی ڈاؤن لوڈ کریں۔
مختصر یہ کہ یہ ٹرینڈ صرف فریب اور کلک بیٹ ہے، اس سے دور رہنا ہی محفوظ راستہ ہے۔









