روسی فضائیہ کا ٹرانسپورٹ طیارہ An-22 ٹیسٹ فلائٹ کے دوران ماسکو سے تقریباً 254 کلومیٹر دور ایوانوو ریجن میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 7 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مرمت کے بعد آزمائشی پرواز پر تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ غیر آباد علاقے میں گرا، جس کے باعث زمین پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ An-22 دنیا کا سب سے بڑا ٹربو پراپ فوجی طیارہ سمجھا جاتا ہے، جو 60 ٹن تک پے لوڈ اٹھانے اور بیک وقت 290 فوجی اہلکاروں یا 206 زخمیوں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ 1965 میں سوویت یونین کے دور میں تیار کیا گیا تھا اور گزشتہ سال اسے باضابطہ طور پر سروس سے ہٹانے کا اعلان بھی کیا جا چکا تھا۔
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ طیارہ تکنیکی طور پر پرانا ہو چکا ہے، مگر روسی فضائی بیڑے میں اب بھی اس کا کردار اہم رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق حادثہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ بوڑھے ہو چکے فوجی بیڑوں کی جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔









