ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں تین اہم منصوبوں پر پیش رفت کے ذریعے ملک میں جدید، مؤثر اور پائیدار رابطوں کے نظام اور لاجسٹک کارکردگی میں انقلابی بہتری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔گزشتہ روز سینٹرل ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے تحت تین اہم منصوبوں پر غور کیا گیا جن کا مقصد رابطوں میں بہتری اور لاجسٹک کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شہری نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کوئٹہ کے فیزیبلٹی اسٹڈی منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کی مالیت 1.24 ارب روپے ہے۔اسی طرح ایم ایل-1 اور حویلیاں ڈرائی پورٹ کے پری لیمنری ڈیزائن اور ڈرائنگز کی تیاری کے منصوبے، جن کی مالیت 16.26 ارب روپے ہے، کو ایکنک (ECNEC) کو بھیج دیا گیا، یہ قدم سی پیک فیز-ٹو کے تحت پاکستان کے ریلوے نظام کی جدید بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ ایم ایل-1 محض ایک ریلوے اپ گریڈ نہیں بلکہ پاکستان کا 21ویں صدی میں داخل ہونے کا سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے برقی ٹرینوں کی جانب بڑھ رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی مسابقت میں رہنے کے لیے اپنے نظام کو جدید بنانا ہوگا۔ وزیر نے پاکستان ریلوے پر زور دیا کہ وہ اپنا بزنس پلان نافذ کرے اور اپنی وسیع زمینوں کو کمرشلائز کر کے خود مالی معاونت کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنائے تاکہ ادارے کی کارکردگی پائیدار بنیادوں پر مستحکم ہو۔
اسی سلسلے میں ایم ایل-1 روہڑی۔خانپور۔ملتان سیکشن کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی، جس کی لاگت 3.21 ارب روپے ہے۔ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی مالی معاونت سے مکمل ہوگا، جو سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطے کے ایجنڈے میں ایک اہم سنگ میل ہے









